کالعدم شدت پسند تنظیم کی سندھ حکومت کو دھمکی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ کراچی میں امن و امان کی خراب صورتِ حال میں ایک ہی گروہ ملوث ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے گروہ کا نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ یہ گروہ شہر میں بدامنی پھیلانا چاہتا ہے۔
سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شہر میں شدت پسندی کی حالیہ لہر میں ہونے والی ہلاکتیں فرقہ وارانہ کارروائیاں نہیں ہیں۔
دریں اثنا کالعدم شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی کے ترجمان ابوسفیان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے سندھ کی حکومت کو متنبہ کیا تھا لیکن اس کے باوجود ان کے کارکنوں کی ہلاکتوں اور ان پر تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کی تنظیم اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
دوسری جانب اہل سنت و الجماعت کے قانونی مشیر امجد فاروقی کی نمازِ جنازہ پیر کو شاہ فیصل کالونی میں ادا کردی گئی ہے۔ انھیں گذشتہ روز فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔
حالیہ دنوں میں شہر میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے جن میں ڈاکٹروں اور وکلا کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
سندھ کی حکومت اور پولیس کا موقف ہے کہ ان واقعات میں تیسری قوت ملوث ہے جو فرقہ وارانہ فسادات کرانا چاہتی ہے، تاہم اس قوت کا نام تاحال ظاہر نہیں کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کالعدم لشکر جھنگوی اپنے کارکنوں اور ہمدردوں کی مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں پر صوبۂ سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو متنبہ کر چکی ہے، جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کیا تھا جبکہ وفاقی اور پنجاب کی حکومت نے ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی تھی۔
کالعدم لشکر جھنگوی اکثر اوقات ملک میں، خاص کر صوبہ بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی ذمہ داریاں قبول کرتی ہے۔
ادھر گلستان جوہر اور آس پاس کے علاقے میں پولیس نے کارروائیاں کی ہیں، جن میں دو درجن سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ایک ماہ سے جاری فرقہ وارانہ تشدد کے اکثر واقعات گلشن اقبال ٹاؤن میں پیش آئے ہیں۔ ایس پی گلشن تنویر حسین تنیو کا موقف ہے کہ کچی آبادیوں میں جرائم پیشہ افراد نے پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں۔







