کراچی: فائرنگ میں دو طالب اور ایک ڈاکٹر ہلاک

پولیس نے حالیہ واقعے کو فرقہ وارانہ دہشت گردی قرار دیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپولیس نے حالیہ واقعے کو فرقہ وارانہ دہشت گردی قرار دیا ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں دو طالب اور ایک ڈاکٹر ہلاک ہوگیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعات فرقہ وارانہ دہشت گردی کا نتیجہ ہیں۔

گلستان جوہر کےعلاقے بلاک 16 میں شب گیارہ بجے کے قریب ایک چائے کے ہوٹل پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں علی احمد، اور امان اللہ ہلاک جبکہ تین افراد زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں جناح ہپستال منتقل کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق مدرسہ جامع دارالخیر اسلامیہ سے تھا، جو قریب ہی ہوٹل پر چائے پی رہے تھے کہ انہیں نشانہ بنایا گیا ۔

مدرسہ جامع دارالخیر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں یہ چوتھا واقعہ ہے، اس سے پہلے بھی مدرسے پر حملے میں طالب علم ہلاک ہوچکے ہیں ، جبکہ جمعیت علما اسلام سمیع الحق کراچی کی امیر مولانا عثمان یار کا تعلق بھی اسی مدرسے سے تھا جنہیں دو دیگر ساتھیوں سمیت شاہراہ فیصل پر نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب واقعے کے بعد مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی کی ہے، جس کے باعث یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک معطل ہوگیا ہے، پولیس کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات جاری تھے۔

اس سے پہلے گلستان جوہر میں ہی ایک کار پر فائرنگ کی گئی ، جس کے نتیجے میں ڈاکٹر حیدر رضا نامی ایک شخص ہلاک جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ دونوں واقعات فرقہ وارنہ دہشت گردی کا نتیجہ ہیں۔

دریں اثنا شاہ فیصل کالونی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ میں پرویز بنگش نامی شخص ہلاک ہوگیا جو عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن تھا۔

شہر میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے، جس کی وجہ سے کچھ روز صورتحال پر امن رہی، لیکن ایک روز میں فرقہ وارانہ اور سیاسی بنیاد پر قتل کی وارداتوں میں اضافہ سامنے آیا ہے۔