پاکستان میں سٹریٹ چلڈرن کا شاندار استقبال

حکومت سندھ نے فی کھلاڑی دو لاکھ روپے انعام اور گریجویشن تک مفت تعلیم کا اعلان کیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحکومت سندھ نے فی کھلاڑی دو لاکھ روپے انعام اور گریجویشن تک مفت تعلیم کا اعلان کیا

عالمی سٹریٹ چلڈرن فٹبال کپ میں تیسری پوزیشن پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد پاکستان سٹریٹ چلڈرن کی ٹیم پیر کی صبح کراچی پہنچ گئی ہے، جہاں ان کے اہل خانہ اور صوبائی وزیر شرمیلا فاروقی، ثانیہ ناز، قادر پٹیل اور دیگر نے ان کا استقبال کیا۔

یہ بچے غریب آبادیوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے گھر والوں سے ناراض ہوکر سڑکوں پر زندگی کا کچھ حصہ گذارا۔ آزاد فاؤنڈیشن نامی غیر سرکاری تنظیم نے چاروں صوبوں سے ان بچوں کا ٹرائیل لے کر پاکستان کی ٹیم تشکیل دی۔

برازیل میں عالمی کپ میں انیس ملکوں کے ایسے بچوں نے حصہ لیا۔ پاکستان کے ان بچوں نے بھارت اور امریکہ کی ٹیموں کو شکست دی اور سیمی فائنل میں برونڈی کے ہاتھوں شکست کھائی۔ پاکستان کے بچوں کی اس عالمی کپ میں پہلی شرکت تھی۔

سٹریٹ چلڈرن نے سندھ اسمبلی کا دورہ کیا۔ سبز لباس پہنے ہوئے ان بچوں کا اراکین اسمبلی نے کھڑے ہوکر استقبال کیا۔اس موقعے پر حکومت نے فی کھلاڑی دو لاکھ روپے انعام اور گریجویشن تک مفت تعلیم کا اعلان کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے شام کو ٹیم کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ جس میں انھوں نے ان بچوں کو آگاہ کیا کہ انھوں نے فٹبال کے عالمی ہیرو میراڈونا کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے۔ تاکہ وہ ان بچوں کی حوصلہ افزائی کریں۔

سولہ سالہ سلمان کا کہنا تھا کہ کس کو خبر تھی کہ جو بچہ سڑکوں پر گذر بسر کر رہا تھا اور نشے کا عادی بن رہا تھا، وہ عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

’بھارت کو ہم نے تیرہ صفر سے شسکت دی۔ لیکن ہم کو زیادہ مزا امریکہ کے ساتھ آیا۔ ان کی سخت جان ٹیم تھی۔ ہم نے بھرپور طریقے سےدفاع کیا اور قوم اور اپنی عزت رکھنے کے لیے پوری جان لگا دی۔‘

محکمہ سوشل ویلفیئر کی صوبائی وزیر روبنیہ قائم خانی کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ ان بچوں اور ان جیسے دوسرے بچوں کو حکومت قبول کرے۔ انھوں نے اس عالمی مقابلے میں بچوں کی شرکت بھی اپنے حصہ میں ڈالی۔

عالمی کپ میں بچوں کا انتخاب اور تربیت کرنے والی غیر سرکاری تنظیم آزاد فاؤنڈیشن کے سینئر رکن افتان مقبول کا کہنا ہے کہ حکومت میں تھوڑا سی تحریک پیدا ہوئی ہے اور خاص طور پر اس بات پر کہ ایک تنظیم کی سطح پر یہ کامیابی مل سکتی ہے تو حکومت کی سطح پر کیوں نہیں۔

افتان مقبول کا کہنا تھا کہ یہ بچے ان بچوں کے سفیر ہیں جو سڑکوں پر زندگی گذار رہے ہیں۔ ان بچوں کے ذریعے وہ مختلف کمیونٹیز میں جائیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ یہ بچے کل کیا تھے اور آج کیا ہیں۔