لاہور:توہینِ رسالت کے عیسائی ملزم کے لیے موت کی سزا

- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک عدالت نے توہینِ رسالت کے ملزم مسیحی نوجوان ساون مسیح کو سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔
ایڈیشنل اینڈ سیشن جج غلام مرتضیٰ نے جمعرات کی سہ پہر سینٹرل جیل اچھرہ میں مقدمے کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔
ساون مسیح پر الزام تھا کہ انھوں نے گذشتہ برس اپنے مسلمان دوست سے جھگڑے کے دوران پیغمبرِ اسلام کے بارے میں گستاخانہ کلمات ادا کیے تھے۔
اس واقعے پر ہزاروں نامعلوم افراد نے ایک ہجوم کی صورت میں لاہور کی مسیحی آبادی جوزف کالونی پر دھاوا بول کر 100 سے زائد مکانات کو جلا دیا تھا۔
ساون مسیح کے وکیل ایڈوکیٹ طاہر بشیر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ عدالتی فیصلے میں 295 پی پی سی کے تحت ان کے موکل کو سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے اور اگر وہ یہ جرمانہ ادا نہیں کر پاتے تو پھر انھیں چھ ماہ قید کاٹنی ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ انھیں فیصلے کی کاپی موصول ہو گئی ہے اور اب وہ سات دن کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔
طاہر بشیر کا کہنا تھا کہ ’عدالت بااختیار ہے لیکن میرے خیال سے اس مقدمے میں بھی توہین عدالت کے دیگر مقدمات کی طرح بہت زیادہ دباؤ تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کرسچیئن نیشنل پارٹی کے سینیئر وائس چیئرمین مارٹ جاوید مائیکل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ فیصلہ انسانیت کی تذلیل ہے۔ مذہبی بنیاد پر ذاتی انتقام لینا درست نہیں اور انھیں مسیحی ہونے کی سزا ملی ہے۔‘
جاوید مائیکل کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ جمعے کو فیصلے کی نقل ملنے کے بعد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔
ساون مسیح کے والد چمن مسیح نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آج رہائی کا دن تھا۔ وہ کہتے تھے سب ٹھیک ہے لیکن شام کو انھوں نے فون کر کے فیصلہ سنایا۔ جب انھوں نے میرے بچے پہ ناجائز الزام لگایا ہے۔ یہ بالکل غلط ہے، جھوٹ ہے۔‘
ساون کے بھائی سلیم نے کہا کہ ’ہماری کالونی کو آگ لگائی گئی اور اب ہم سب لوگ حیران ہیں کہ موت کی سزا اور ساتھ جرمانے کی اتنی بڑی رقم مانگی جا رہی ہے کیا یہ انصاف ہے؟‘
اس مقدمے کا آغاز آٹھ مارچ 2013 کو پیش آنے والے ایک واقعے کے باعث ہوا تھا جس میں جوزف کالونی کے رہائشی بچپن کے دو دوستوں ساون مسیح اور شاہد عمران کے درمیان سنوکر کھیلتے ہوئے جھگڑا ہوا اور پھر بڑھتے بڑھتے بات ایسی بڑھی کہ ساون پر توہین مذہب کا الزام لگ گیا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
شاہد کی جانب سے ساون کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے بعد انھیں آٹھ مارچ کو ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔
اس معاملے کی خبر پھیلنے کے بعد آٹھ مارچ کی شام کو بادامی باغ کے انڈسٹریل ایریا کے قریب واقع اس رہائشی کالونی پر مشتعل ہجوم نے دھاوا بول دیا تھا۔ یہ حملے دو دن تک جاری رہے تھے اور ان میں 125 سے زیادہ مکانات اور دکانوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا اور یہ کالونی مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھی۔
ان حملوں میں دو گرجا گھروں کو بھی توڑ پھوڑ کے بعد آگ لگا دی گئی تھی جس سے انھیں جزوی طور پر نقصان پہنچا تھا۔
پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا اور اب صورتحال یہ ہے کہ جوزف کالونی پر حملے کے مقدمے میں نامزد 43 افرد کو ضمانت پر رہائی مل چکی ہے تاہم ان کی رہائی کے خلاف کی گئی اپیل زیرِ سماعت ہے۔
پاکستان میں کسی مسیحی آبادی پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا اور ماضی قریب میں گوجرہ اور شانتی نگر میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں لیکن آج تک نہ تو ان واقعات سے متعلق حقائق منظرخ عام پر آسکے اور نہ ہی کسی کو ذمےدار ٹھہرا کر سزا دی گئی ہے۔







