جوزف کالونی: ملزمان پر فردِ جرم عائد

اس سال نو مارچ کو توہینِ رسالت کے الزام کے بعد مشتعل ہجوم نے جوزف کالونی پر دھاوا بول کر مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچایا تھا
،تصویر کا کیپشناس سال نو مارچ کو توہینِ رسالت کے الزام کے بعد مشتعل ہجوم نے جوزف کالونی پر دھاوا بول کر مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچایا تھا

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے لاہور میں ایک عیسائی بستی پر دھاوا بول کر گھروں کو نقصان پہنچانے والے افراد کے خلاف 13 جون کو فردجرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ادھر انسداد دہشت گردی کی ایک دوسری عدالت نے توہینِ رسالت کے الزام میں گرفتار جوزف کالونی نامی اسی بستی کے ساون مسیح کے خلاف مقدمہ کی سماعت جیل کے اندر شروع کردی ہے۔

عدالت کے روبرو استغاثہ نے مزید 34 ملزموں کے خلاف چالان پیش کیا۔

صفائی کے وکیل نعیم شاکر کے مطابق اب 48 ملزموں کے خلاف عدالت میں چالان کیا گیا جب کہ ابھی کچھ ملزموں کے خلاف چالان پیش کیا جانا ہے۔

نعیم شاکر ایڈووکیٹ کے مطابق عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب تک جتنے ملزموں کے خلاف چالان پیش کیا جاچکاہے ان پر آئندہ سماعت پر فردجرم عائد کردی جائے گی۔

اس سال نو مارچ کو لاہور میں ایک عیسائی شخص کے خلاف توہینِ رسالت کے الزام کے بعد مشتعل افراد نے بادامی باغ کے انڈسٹریل ایریا کے قریب واقع جوزف کالونی پر دھاوا بول کر وہاں مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچایا تھا اور اسی دوران دو چھوٹے گرجا گھروں کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔

عدالت نے اسی مقدمے کے ایک ملزم عمران بٹ کی ضمانت بھی منسوخ کردی۔

سکیورٹی کے پیش نظر ساون مسیح کے خلاف مقدمے کی کارروائی جیل کے اندر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

گذشتہ سماعت پر عدالت نے جیل کے اندر کارروائی کرتے ہوئے پر ساون مسیح پر فردجرم عائد کی تھی تاہم ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کردیا تھا۔ ملزم کے وکیل کے مطابق آئندہ سماعت عدالت استغاثہ کے گواہوں کے بیان ریکارڈ کرے گی۔

اس مقدمے کی اگلی سماعت 12 جون کو جیل کے اندر ہوگی۔