خود سوزی کرنے والی لڑکی کی ہلاکت پر از خود نوٹس

اس از خودنوٹس کی ابتدائی سماعت کے دوران عدالت میں پنجاب حکومت کی طرف سے کوئی نمائندہ پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشناس از خودنوٹس کی ابتدائی سماعت کے دوران عدالت میں پنجاب حکومت کی طرف سے کوئی نمائندہ پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا

پاکستان کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے جنوبی پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کی تھانے کے باہر خود سوزی کی وجہ سے ہلاکت پر از خود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب پولیس کے سربراہ اور ضلعی پولیس افسر کو سترہ مارچ کو عدالت میں طلب کیا ہے۔

اٹھارہ سالہ آمنہ بی بی نامی لڑکی کی شکایت تھی کہ جنوری کے مہینے میں کالج جاتے ہوئے پانچ افراد نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور رپورٹ درج کروانے باوجود پولیس نے درست انداز میں معاملے کی تفتیش نہیں کی۔

عدالت نے متعقلہ حکام سے اس واقع کے بارے میں جامع رپورٹ طلب کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تمام شواہد بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ مظفر گڑھ کے علاقے میں پانچ جنوری کو ایک لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور پولیس نے اس واقعے میں ملوث ملزمان کو بےگناہ قرار دیتے ہوئے اُنھیں رہا کردیا تھا۔

ملزمان کے بےگناہ قرار دیے جانے کے بعد متاثرہ لڑکی نے تھانے کے سامنے خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا لی تھی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئی تھی۔ لڑکی کو ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں پر وہ زخموں کی تاب بہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئی۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ عدالت نے متاثرہ لڑکی کی میڈیکل رپورٹ، اس مقدمے کا تفتیشی ریکارڈ اور ملزمان کی رہائی سے متعلق بھی تفصیلات مانگی ہیں۔

اس مقدمے کی ابتدائی سماعت کے دوران عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل یا پنجاب حکومت کی طرف سے کوئی نمائندہ پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیا صوبائی حکومت اس طرح لوگوں کو انصاف فراہم کرتی ہے۔