’سعودی دباؤ کی وجہ سے پالیسی میں تبدیلی نہیں آئی‘

پاکستان کے وزیرِاعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ اور قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ شام کے بارے میں پاکستان کی پالیسی اصولوں پر مبنی ہے۔
مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے منگل کو قومی اسمبلی میں شام کے بارے میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے دباؤ کی وجہ سے شام کے تنازعے کے بارے میں پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
انھوں نے شام میں باغیوں کے لیے اسلحے کی فروخت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت یا کسی دوسرے ملک پر اپنا ایجنڈہ مسلط کرنے کے خلاف ہے۔
خیال رہے کہ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اتوار کو ایک خبر میں ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پر دعویٰ کیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات طے پانے کی صورت میں سعودی عرب پاکستان سےطیارہ شکن اور ٹینک شکن راکٹ اور میزائل خریدے گا جو شام میں باغیوں کو فراہم کیے جائیں گے۔
سرکاری ریڈیو کے مطابق مشیر خارجہ کے بقول پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور وہ نہ صرف قانونی طریقہ کار اور تمام متعلقہ قومی اور بین الاقوامی قواعدو ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے اسلحہ فروخت کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کے پاکستان کے دورے کے موقع پر فریقین نے صرف دفاع کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا اور پاکستان شام کی خودمختاری اور علاقائی استحکام اور تمام فریقوں کی طرف سے جنگی کارروائیاں بند کرنے کی حمایت کرتا ہے ۔
شامی باغیوں کو اسلحے کی فراہمی کی اطلاعات پر حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے وضاحت طلب کی تھی جبکہ مقامی ذرائع ابلاغ پر بھی اس معاملے پر تنقید کی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
اے ایف پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے سعودی حکومت نے شامی صدر بشار الاسد کی حامی فوج کے خلاف لڑنے والے شامی باغیوں کو جدید اسلحہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں سعودی اور پاکستانی حکام کے درمیان بات چیت بھی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب طیارہ شکن میزائل ’عنزہ‘ خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور یہ اسلحہ اردن کے راستے شام میں برسرِ پیکار باغیوں کو بھیجا جائے گا۔
اے ایف پی نے اپنی خبر میں یہ بھی کہا کہ اسی سلسلےمیں گذشتہ دنوں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے دورۂ پاکستان کے موقعے پر بھی اس بارے میں تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات میں گرم جوشی کی خبریں کچھ عرصے سے گرم ہیں اور گذشتہ برس بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں متعدد ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور سعودی عرب جب چاہے پاکستان سے یہ ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔
تاہم اس وقت بھی پاکستانی وزارتِ خارجہ نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے اسے ’بے بنیاد، شرانگیز اور فرضی‘ قرار دیا تھا۔







