افغان ٹرانزٹ گاڑیاں روکنا غیر قانونی: پشاور ہائی کورٹ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان سے افغانستان آنے جانے والی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیوں کو روکنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے صوبائی حکومت کو حکم جاری کیا کہ وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی جانب سے ان گاڑیوں کو روکنے کے اقدام کا سختی سے نوٹس لے۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس ملک منظور حسین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ احکامات منگل کو تاجر برادری کی جانب سے دائر کی گئی ایک رٹ درخواست کو منظور کرتے ہوئے جاری کیے۔
پشاور کے رامپورہ گیٹ کے تاجروں کے ایک نمائندے حاجی لعل محمد نے ہائی کورٹ کے وکیل شاہ نواز خان کی توسط سے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ایک رٹ درخواست دائر کی تھی۔
اس درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ پشاور کے تاجر روزانہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیوں میں کھانے پینے کی چیزیں اور دیگر سامان تجارت کے غرض سے افغانستان بھیجتے ہیں، لیکن تحریکِ انصاف کے کارکن رنگ روڈ پر ان گاڑیوں کو روک کر نہ صرف ڈرائیوروں کو بے جا تنگ کرتے ہیں بلکہ اس کی وجہ سے عام گاڑیوں کو بھی آنے جانے میں تاخیر کا سامنا رہتا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل شاہ نواز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیوں کو روکنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ عدالت نے صوبائی حکومت کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ ان واقعات کا سختی سے نوٹس لے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
اس موقع پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل میاں راشد جان نے حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا کہ اس سلسلے میں پولیس کی جانب سے پہلے بھی کارروائی کی گئی تھی اور تحریکِ انصاف کے کچھ کارکنوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں ایک مدرسے پر ہونے والے امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کے بعد برسرِاقتدار سیاسی جماعت تحریکِ انصاف نے نیٹوگاڑیوں کی آمدورفت روک دی تھی۔
تحریکِ انصاف کے کارکنوں نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بعض گاڑیوں کو اتحادی افواج کا سامان لے جانے والی گاڑیاں سمجھ کر انھیں روکا اور ڈرائیوروں پر تشدد بھی کیا۔
ان واقعات کے بعد پولیس نے تحریک انصاف کے کچھ کارکنوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے۔







