ایرانی دھمکی پر پاکستان کی تشویش کا اظہار

،تصویر کا ذریعہ
پاکستان نے ایران کی جانب سے اپنے مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے پاکستان کی سرحد کے اندر کارروائی کرنے کی دھمکی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان پانچ سرحدی محافظین کو چھ فروری کو ایران کی سرحد کے پانچ کلومیٹر اندر اغوا کیا گیا تھا تاہم اغوا کار انھیں پاکستانی حدود میں لے آئے تھے۔
ایران کے وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے پیر کو ایک بیان میں مغویوں کو شدت پسندوں سے چھڑانے کے لیے پاکستان کی سرحد کے اندر کارروائی کرنے کی دھمکی دی تھی۔
حکومتِ پاکستان نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ایرانی وزیرِ داخلہ کے بیان میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے جیسے اس سلسلے میں پاکستان لاپروائی سے کام لے رہا ہے۔
پاکستان کی وزاتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ماضی میں دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کے لیے بھرپور تعاون کرتا رہا ہے اور ایران کو اس کا مکمل طور پر علم ہے۔
بیان کے مطابق پاکستان نے پہلے ہی ایران حکام کو مطلع کر دیا ہے کہ اس کے فرنٹیئر کور کے دستوں نے پورے علاقے کو چھان مارا ہے لیکن مغوی ایرانی محافظین کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ یہ دہشت گرد مغوی محافظین سمیت ایران کی سرحد کے اندر ہی کہیں چھپے ہوئے ہوں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے سکیورٹی ادارے ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ایران اور پاکستان کے اعلٰی سکیورٹی اہلکاروں کی ملاقات میں 19 فروری کو کوئٹہ میں طے ہے جہاں اس بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آخر میں بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے اندر مداخلت یا کارروائی کرنے کا کوئی حق نہیں اور دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی سرحدوں کا احترام اور پاسداری کرنی چاہیے۔
گذشتہ روز ایرانی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ اگر پاکستان نے ایرانی سکیورٹی محافظین کو رہا کرانے کے لیے کچھ نہ کیا تو ایران پاکستان میں اپنے فوجی بھیج کر ان کو رہا کرانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پہلے تو ایران محافظین کی رہائی کے لیے پاکستان وفد بھیجےگا لیکن اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو وہ اپنی فورسز کو پاکستان میں بھیج کر اپنےسرحدی محافظین کو رہا کرانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایران نے پیر کے روز تہران میں پاکستانی سفیر کو طلب کر کے اس واقعے پر احتجاج کیا ہے۔
تقریباً دس روز پہلے ایرانی سنی گروپ جیش العدل نامی تنظیم نے پانچ ایرانی سکیورٹی گارڈز کو اغوا کر لیا تھا۔ یہ گروپ ایران کے صوبے سیستان بلوچستان میں سرگرم ہے۔
العریبہ نیوز چینل نےگذشتہ روز مغوی محافظین کی ایک ویڈیو نشر کی ہے جس میں ایک ایرانی محافظ کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ وہ خیریت سے ہیں اور ایران کو جیش العدل کے مطالبوں پر غور کرنا چاہیے۔
ایک ایرانی اہلکار نے کہا ہے کہ اس سے پہلے جب ایسے واقعات ہوئے تو پاکستان نے مثبت انداز میں مدد کی ہے۔
خیال رہے کہ جیش العدل کا قیام 2012 میں عمل میں آیا تھا اور یہ گروپ گذشتہ برس اکتوبر میں اس وقت خبروں میں رہا تھا جب اس نے 14 ایرانی فوجیوں کو ایک کارروائی میں ہلاک کر دیا تھا۔
ان ہلاکتوں کے جواب میں ایرانی حکام نے 16 افراد کو پھانسی دی تھی جن کا تعلق سنی شدت پسند تنظیموں سے بتایا جاتا تھا۔







