بلوچستان: ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کا اغوا

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنایران اور پاکستان سرحد کی فضا سے لی گئی تصویر (فائل فوٹو)
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

ایران سے متصل پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلح کیچ کے ڈپٹی کمشنر اور ایک اسسٹنٹ کمشنر سمیت لیویز فورس کے متعدد اہلکاروں کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔

لیویز فورس کیچ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر کیچ عبدالحمید ابڑو ایرانی حکام کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت کے لیے سرحدی علاقے میں گئے تھے: ’اجلاس میں شرکت کے بعد وہ اسسٹنٹ کمشنر تمپ کے ہمراہ واپس لوٹ رہے تھے کہ اجیان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے لیویز اہلکاروں کے ہمراہ انھیں اغوا کر لیا۔‘

لیویز اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ قافلہ چار گاڑیوں پر مشتمل تھا اور ان میں سوار تمام افراد کو جن کی تعداد معلوم نہیں، اغوا کار نامعلوم مقام پر لے گئے ہیں۔

لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر کے ہمراہ موجود ان تمام افراد کو رات سات سے آٹھ بجے کے درمیان اغوا کیا گیا۔

صوبہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے اعلیٰ افسران کے اغوا کے واقعے کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور ان کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔

یاد رہے کہ ضلع کیچ بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں شامل ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔