ویلنٹائن ڈے پر پشاور یونیورسٹی میں فائرنگ، ایک زخمی

،تصویر کا ذریعہHAP
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پشاور یونیورسٹی کے کیمپس پر ویلنٹائن ڈے منانے کے تنازعے پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک طالب علم زخمی ہوا ہے۔
پشاور یونیورسٹی کے ترجمان اختر امین نے بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ نمازِ جمعہ سے پہلے تقریباً 12 بجے کے قریب پیش آیا جس میں ایک طالب علم زخمی ہو گیا۔
انھوں نے کہا کہ طلبا کے دو مختلف گروپ دو مختلف دن منا رہے تھے جس کی وجہ سے یہ تنازع کھڑا ہوا۔
’پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن ویلنٹائن ڈے منا رہی تھی جبکہ اسلامی جمعیت طلبہ حیا ڈے منا رہی تھی جس کی وجہ سے تناؤ پیدا ہوا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کراس فائرنگ اس وقت ہوئی جب دونوں گروپوں کا یونیورسٹی کے اکیڈیمک بلاک میں آمنا سامنا ہوا اور آپس میں تلخ کلامی ہوئی۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا یونیورسٹی ویلنٹائن ڈے منانے کی اجازت دیتی ہے یا منع کرتی ہے، اختر امین نے کہا کہ ’کسی بھی بڑے فنکشن کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ سے اجازت لینا ضروری ہے اور اس کا اپنا طریقۂ کار ہے لیکن اگر طلبہ پرامن طور کوئی بھی انفرادی سرگرمی کرنا چاہیں تو اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یونیورسٹی کو ویلنٹائن ڈے منانے یا نہ منانے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن طلبہ جو بھی سرگرمی کریں، وہ پرامن ہو۔‘
اختر امین نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کی ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یونیورسٹی کے ایس ایچ او رحیم حسین نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے پروفیسر معراج الاسلام کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی بنا دی ہے۔
پشاور یونیورسٹی میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اور جمعیت کے درمیان نظریاتی اختلافات کی وجہ سے تناؤ رہتا ہے۔
پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کو آزاد خیال تصور کیا جاتا ہے اور اسے عوامی نیشنل پارٹی کی ذیلی تنظیم سمجھا جاتا ہے جو خود ایک اعلانیہ سیکولر سیاسی جماعت ہے جبکہ جمعیت کو دائیں بازو کی سیاسی پارٹی جماعتِ اسلامی کی ذیلی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے محبت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔







