کراچی: آستانے پر حملے کے شبے میں 15 گرفتار

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایک آستانے پر فائرنگ سے آٹھ عقیدت مندوں کی ہلاکت کے بعد پولیس نے پندرہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جبکہ اطلاعت کے مطابق شدت پسند گروپ جنداللہ نے واقعے کی ذمے داری قبول کی ہے۔
کراچی پولیس کے ایس ایس پی عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ آستانے والوں کو اس سے پہلے کبھی دھمکیاں نہیں ملی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس واقعے میں وہ گروہ ملوث ہوسکتا ہے جو اس مکتبۂ فکر کا مخالف ہے۔
دوسری جانب مقامی میڈیا کے مطابق جنداللہ نامی گروہ نے اس کارروائی کی ذمے داری قبول کی ہے جو پولیس کے مطابق ماضی میں بھی شہر میں کور کمانڈر پر حملے سمیت کئی بڑی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔
پولیس نے بلدیہ اور سعید آباد میں آپریشن کر کے پندرہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے، ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران جو بے گناہ ثابت ہوئے انہیں رہا کردیا جائے گا۔
اس واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ بلدیہ ٹاؤن کے علاقے پیر میرن شاہ بابا کے آستانے میں پیش آیا ہے۔
ایس ایس پی عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ موٹرسائیکل پر سوار مسلح افراد نے آستانے پر دستی بم پھینکا جس کے بعد شدید فائرنگ کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سول ہسپتال کے میڈیکو لیگل افیسر آفتاب احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے آٹھ افراد اور ایک بچی سمیت سولہ زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ آستانا جلالی بابا کے نام سے مشہور ہے، جہاں پندرہ سال قبل ریٹائرڈ ہونے والے ایک ڈی ایس پی ٹکا خان بیٹھتے ہیں۔
آستانے پر ذکر کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں اور ٹھٹہ سے ایک پیر مبین یہاں آتے ہیں جو تعویذ دیتے ہیں، جس وقت حملہ ہوا اس وقت پیر مبین بھی موجود تھے جو حملے میں زخمی ہوگئے ہیں۔
ایس ایس پی عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ جس انداز سے کارروائی کی گئی ہے اس سے یہ شدت پسند گروہ کے ملوث ہونے کا شبہ لگتا ہے۔
یاد رہے کہ یہ حملہ رواں برس کا تیسرا حملہ ہے جس میں کسی مزار کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل 20 جنوری کو کراچی میں ایک مزار کے قریب سے تین افراد کی تشدد شدہ لاشیں ملی تھیں۔
ملیر شرافی گوٹھ میں الفلاع ندی سے صبح کے وقت تینوں لاشیں ملی تھیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ جس جگہ سے لاشیں ملیں اس سے چند فرلانگ دور ولایت شاہ نامی بزرگ کا مزار ہے۔
اس سے قبل سات جنوری کو کراچی ہی میں ایک مزار سے چھ لاشیں ملی تھیں۔ پولیس نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ واقعہ مذہبی شدت پسندوں کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ شہر کے مضافاتی علاقے گلشنِ معمار کے قریب واقع مزار سے ملنے والی چھ لاشوں کے گلے کٹے ہوئے تھے۔
پولیس کو جائے وقوع سے ایک چٹ بھی ملی تھی، جس میں کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے لوگوں کو مزاروں پر نہ جانے کا مشورہ دیا گیا تھا۔







