کراچی: مزار کے قریب سے تین لاشیں برآمد

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں ایک مزار کے قریب سے تین افراد کی تشدد شدہ لاشیں ملی ہیں جبکہ پولیس اور رینجرز نے جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران 127 ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ملیر شرافی گوٹھ میں الفلاع ندی سے پیر کی صبح تین لاشیں ملی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ جس جگہ سے لاشیں ملی ہیں اس سے چند فرلانگ دور ولایت شاہ نامی بزرگ کا مزار ہے۔ پولیس کے مطابق تینوں افراد کی عمریں پچیس سے تیس سال ہے اور شلوار قمیض پہنے ہوئے ہیں۔
تینوں لاشیں جناح ہپستال پہنچائی گئیں جہاں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں تشدد کے بعد قریب سے گولیاں مارکر ہلاک کیا گیا ہے۔
آخری اطلاعات تک مقتولین کی شناخت نہیں ہوسکی تھی۔
یاد رہے کہ سات جنوری کو کراچی کے مضافاتی علاقے گلشنِ معمار کے قریب واقع ایک مزار سے چھ لاشیں ملی تھیں جن کے گلے کٹے ہوئے تھے۔
ادھر رینجرز اور پولیس کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ شہر میں جاری آپریشن کے دوران 127 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب کراچی میں حساس پولیس سٹیشنوں سے وابستہ پولیس اہلکاروں کو رسک الاؤنس دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شہر میں گزشتہ ایک سال کے دوران دو سو کے قریب پولیس اہلکاروں اور افسروں کو نشانہ بنایاگیا ہے اور حالیہ آپریشن کے بعد اس میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ فوج کے ریٹائرڈ ملازمین کو بھرتی کرنے کے فیصلے کے تحت بارہ سو کمانڈوز بھرتی ہوچکے ہیں۔ اجلاس میں پولیس کو مزید تین سو بلٹ پروف گاڑیاں اور سو آرمرڈ گاڑیاں دینے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اجلاس میں جرائم میں ملوث سرکاری ملازمین کی بھی فہرست تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کی روشنی میں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ایک بار پھر کراچی کی جیلوں میں موبائیل فون جیمر کے نظام کو فعال بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔







