پاکستان میں جنسی تعلیم

ایک نجی ٹی وی چینل کے اینکر نے ایک پروگرام میں ایک سکول کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چھٹی جماعت کے نصاب میں بچوں کو تولیدی نظام کے بارے میں بتایا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہNot available

،تصویر کا کیپشنایک نجی ٹی وی چینل کے اینکر نے ایک پروگرام میں ایک سکول کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چھٹی جماعت کے نصاب میں بچوں کو تولیدی نظام کے بارے میں بتایا جا رہا ہے
    • مصنف, عنبر شمسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے حال ہی میں ایک نجی سکول میں پڑھائی جانے والی کتاب سے تولیدی صحت، جنس اور جسمانی تبدیلیوں کے موضوعات پر باب کو نصاب سے نکلوا دیا۔

اس حکومتی اقدام سے ایک مرتبہ پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ بچوں کو کس عمر سے اور کس طرح جنسی تعلیم فراہم کی جانی چاہیے؟

نازو پیرزادہ 16 برس سے اندرونِ سندھ میں نوجوانوں کو جنس اور اس سے متعلق زندگی گزرانے کے طریقوں کے بارے میں تربیت دے رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس موضوع پر پاکستان میں شعور کی بہت کمی ہے:

’انگریزی میں تو ہم کہہ دیتے ہیں، سیکس سیکس سیکس، لیکن اردو میں کہیں تو لگتا ہے کہ بے راہ روی کی بات ہو رہی ہے، جنسی تعلقات کی بات ہو رہی ہے۔ لیکن جنس تو ہماری قدرتی پہچان ہے۔ ہم اپنی پہچان کے بارے میں کیوں بات نہیں کرنا چاہتے، اس کی حفاظت کیوں نہیں کرنا چاہتے؟‘

نازو پیرزادہ غیر سرکاری تنظیم آہنگ میں سینیئر تربیت کار ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ 90 کی دہائی میں نوجوانوں کو ایڈز کے بارے میں تربیت دینا شروع کی تو معلوم ہوا کہ نوجوان اپنے حقوق کے بارے میں لاعلم تھے اور اپنی جسمانی تبدیلیوں کی وجہ سے ان میں خود اعتمادی کی کمی تھی۔

’پہلے تو ہم نے اس پروگرام کا نام ’سیلف کانفیڈینس‘ رکھا۔ بچے اور ہم خود بہت خوف زدہ تھے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ لیکن آہستہ آہستہ تبدیلی آئی ہے اور ہم نے نصاب کو زیادہ وسیع کردیا۔‘

آہنگ کے اس پروگرام کا نام ’لائف سکیلز ایجوکیشن‘ ہے، یعنی زندگی گزرانے کے طریقوں پر مبنی تعلیم۔ تنظیم ہر تین سال بعد دو سو سکولوں میں 12 سے 18 سال کے بچوں کو مخصوص نصاب کے ذریعے جنس، جسمانی تبدیلیوں، موثر رابطوں کے طریقے، حفظانِ صحت، ہم عمروں کے دباؤ، حقوق، اور اپنی حفاظت کے طریقوں کے بارے میں سکھاتی ہے۔

گذشتہ سال ایک نجی ٹی وی چینل کے میزبان نے ایک پروگرام میں ایک سکول کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چھٹی جماعت کے نصاب میں بچوں کو تولیدی نظام کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔

اس پر حکومتِ پنجاب کے محکمۂ تعلیم نے نوٹس لیتے ہوئے ایک کمیٹی قائم کر دی۔ پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا مشہود نے بی بی سی کو بتایا کہ والدین کی شکایت کی وجہ سے انہوں نے چھٹی جماعت کی حیاتیات کی کتاب میں تولیدی نظام کے بارے میں باب کو نصاب سے نکلوا دیا۔

’بچوں کو اس بارے میں آگاہی ضرور دینی چاہیے، مگر حکومتِ پنجاب اور معروف ماہرِ تعلیم کا خیال تھا کہ اتنے کم عمر کے بچوں کو اتنی زیادہ تفصیلات دینے سے ان پر منفی اثر پڑے گا۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد تمام نجی سکولوں میں اس باب کو نصاب سے نکال دیا گیا۔

سماجی کارکن اور سابق رکنِ قومی اسمبلی شہناز وزیر علی کا خیال ہے کہ نصاب کی نگرانی کرنا حکومت کا حق ہے، تاہم اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کو تولیدی صحت اور حقوق کے بارے میں بتانا چاہیے۔

’اس بات پر وقتاً فوقتاً بحث چھڑتی ہے کہ ہمارے معاشرے اور دین کے لحاظ سے نصاب میں کس عمر کے بچوں کو یہ باتیں بتانا چاہیئیں۔ باقی دنیا میں دیکھیں تو سمجھا جاتا ہے کہ 15 اور 16 سال کے بچوں کو لازماً سکھانا چاہیے۔‘

نوجوانوں میں کس طرح اور کس قسم کے مسائل ہیں جس کی وجہ سے ایسی تعلیم کی ضرورت پڑتی ہے، یہ جاننے کے لیے میں غیر سرکاری تنظیم روزن کے دفتر گئی جہاں ایک ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے۔ یہاں ای میل، فون کے علاوہ نوجوانوں کی براہِ راست نفسیاتی کونسلنگ بھی کی جاتی ہے۔ روزن کے مطابق ہر ماہ ملک بھر سے تقریباً چار سو سے زیادہ درخواستیں آتی ہیں۔

بچوں کی نفسیات کی ماہر اور روزن کی اہل کار روہی غنی نے مجھے بتایا کہ یوتھ ہیلپ لائن میں زیادہ تر 11 اور 19 سال کی عمروں کے درمیان کے بچے اور نوجوان فون کر کے اپنے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ بچیاں تو اپنی ماؤں سے مشورے اور معلومات حاصل کر سکتی ہیں، لیکن لڑکوں کو یہ سہولت حاصل نہیں۔

والدین کے خیال میں کیا یہ موضوعات سکول میں پڑھائے جانے چاہییں یا اس کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے؟ اس بارے میں ہم نے دو ماؤں سے بات کی، جنہوں نے اس رپورٹ کے لیے اپنے نام تبدیل کرنے کی گزارش کی۔

عائشہ کے دو لڑکے ہیں، جن کی عمریں 14 اور 17 برس ہیں۔ ان کے خیال میں یہ کام ایک تربیت یافتہ پروفیشنل ہی کر سکتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب، پانچ اور دس سالہ بچیوں کی والدہ ماہا کہتی ہیں کہ اگر سکول میں سکھایا جائے گا تو بچوں میں تجسس بڑھے گا۔

’اگر یہ چیزیں بچوں کو کم عمری میں سکھائی جائیں گی تو ڈر یہ ہے کہ بچے ان باتوں میں زیادہ دلچسپی لینا شروع کردیں گے، جنہوں نے اس بارے میں شاید اس سے پہلے سوچا بھی نہ ہو۔‘

ادھر آہنگ کی اہل کار نازو پیر زادہ کہتی ہیں کہ تعلیمی پروگرام کے آغاز سے قبل وہ بچوں کے والدین سے بات کرتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کو خود جنس اور جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں اپنے بچوں کو بتانا مشکل لگتا ہے۔

جنس کو شاید پاکستان میں گندا اور فحش لفظ سمجھا جاتا ہے، اسی لیے ان گنی چنی تنظیموں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ بچوں کو گمراہ کرتی ہیں۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سپارک کے مطابق 2012 میں تقریبا تین ہزار آٹھ سو بچے جنسی استحصال کا شکار ہوئے۔ چاہے والدین کی ذمے داری ہو، یا سکولوں کی، شاید اگر ان بچوں کو اپنے حقوق اور اپنی حفاظت کے بارے میں آگاہی ہوتی تو یہ اعداد و شمار کہیں کم ہوتے۔