کراچی: اہل سنت و الجماعت کا دھرنا ختم

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اہل سنت و الجماعت کے کارکنوں نے ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس شاہد حیات کی یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کردیا ہے۔
اہل سنت و الجماعت نے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کی ہلاکت اور مبینہ طور پر ایران کے ان کارروائیوں میں ملوث ہونے کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔
یہ احتجاج سی آئی ڈی پولیس کے ایس پی راجہ عمر خطاب کے اس انکشاف کے بعد کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ انھوں نے کالعدم تنظیم سپاہ محمد کے دو شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے جو شہر میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں ملوث رہے ہیں۔
راجہ عمر کا یہ بھی الزام تھا کہ ملزمان نے ایران سے تربیت حاصل کی ہے اور ان کی معاونت بھی کی جاتی رہی ہے، تاہم ایرانی قونصل خانے نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پاکستان میں فرقہ ورانہ ہلاکتوں میں ملوث نہیں۔
اس سلسلے میں تنظیم نے جمعے کو ایرانی قونصل خانے کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا لیکن پولیس نے قونصل خانے جانے والی سڑکوں کو کنٹینروں کی مدد سے بند کر دیا تھا۔
اس پر اہل سنت و الجماعت کے کارکنوں نے گرومندر چوک پر جماعت کے مرکزی رہنما مولانا احمد لدھیانوی اور مولانا اورنگزیب فاروقی کی قیادت میں دھرنا دیا، جس کے باعث ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک معطل رہی۔
دھرنے کے قریب ہی شیعہ کمیونٹی کی سب سے بڑی امام بارگاہ شاہ خراساں واقع ہے، جس کے باعث صورتِ حال کشیدہ رہی اور بڑی تعداد میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
شام کو ایڈیشنل آئی جی شاہد حیات دھرنے والی جگہ پر پہنچے اور مولانا احمد لدھیانوی اور اورنگزیب فاروقی سے مذاکرات کیے، جس میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ علما اور کارکنوں کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے بات چیت میں سی آئی ڈی کی طرف سے کی گئی حالیہ گرفتاریوں کا بھی حوالہ دیا،جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
دریں اثنا گذشتہ شب ہلاک ہونے والے شیعہ پروفیسر اصغر زیدی کی نمازہ جنازہ جمعے کو انچولی امام بارگاہ میں ادا کی گئی، جس کے بعد انھیں وادی حسین قبرستان میں دفنا دیا گیا۔ پروفیسر اصغر پر عائشہ منزل کے علاقے میں جمعرات کی شب فائرنگ کی گئی تھی، جس میں وہ ہلاک جبکہ ان کی اہلیہ شدید زخمی ہوگئی تھیں۔
مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ اعجاز بہشتی کا اس موقعے پر کہنا تھا کہ کراچی میں شیعہ علما، ڈاکٹر، وکلا اور مساجد و امام بارگاہ کے ٹرسٹیز کوایک سوچی سمجھی سازش کے تحت نشانہ بنایا جارہا ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔







