فاٹا میں ’نقصان کا سبب پاکستانی فوج کی حکمتِ عملی‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاری جنگ سے بچنے کی خاطر نقل مکانی کرنے والے افراد کے بارے میں ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قبائلیوں کی اکثریت اپنے نقصانات کا بڑا سبب پاکستانی فوج کی دہشت گردی کے خاتمے کی حکمتِ عملی کو مانتی ہے۔
قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے ڈیڑھ لاکھ خاندان اب بھی علاقے کی غیر یقینی صورتِ حال میں بہتری اور امداد کے منتظر ہیں۔
اسلام آباد میں واقع ایک نجی تھنک ٹینک ’فاٹا ریسرچ سینٹر‘ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں فوج کی حکمتِ عملی سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں بہت ابہام ہے۔
سروے کے مطابق 93 فیصد قبائلی اپنے مکانات اور دیگر املاک کی تباہی کے لیے فوجی کارروائیوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔
سروے کے مطابق تقریباً 70 فیصد متاثرین اپنے علاقوں میں امن قائم ہونے کی صورت میں گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں واقع جلوزئی کیمپ کے متاثرین کے ایک رہنما گلاب خان نے اس موقعے پر اپنے خطاب میں عمران خان کی تحریکِ انصاف کی حکومت کے رویے سے متعلق بھی شکایت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرد موسم کی وجہ سے انہوں نے صوبائی حکومت سے مارچ تک کی مہلت مانگی تھی لیکن وہ دینے کو تیار نہیں لہذا انھیں عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔
گلاب خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ایک جانب تو دھرنوں کے ذریعے ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہے لیکن اس سردی میں ان متاثرین کو دوسری جگہ منتقل کر کے ان پر ڈرون حملے کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں عالمی قوانین کے تحت ان کا حق دیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فاٹا ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے ایک اہل کار حسیب نے بتایا کہ ڈیڑھ لاکھ خاندان اب بھی کیمپوں یا اپنے رشتہ داروں کے پاس پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ باجوڑ اور مہمند ایجنسیوں سے تمام متاثرین واپس لوٹ چکے ہیں لیکن باقی ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد آج بھی خراب حالات کی وجہ سے غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہیں اور پناہ گزین ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان متاثرین کی دیکھ بھال کی کسی قومی پالیسی کی عدم موجودگی میں آگے چل کر ان کے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی محمد نذیر نے حکومت کی جانب سے عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان متاثرین کی واپسی پر ان کی اقتصادی بحالی پر بھی توجہ دینی ہوگی۔
فاٹا سینٹر کے ڈاکٹر اشرف علی کا اس موقعے پر کہنا تھا کہ اس وقت قبائلی علاقوں سے متعلق حکومتی پالیسی میں مکمل ابہام پایا جاتا ہے اور ’ہمیں نہیں معلوم ہم کس سمت میں جا رہے ہیں۔‘
شمالی وزیرستان میں گذشتہ دنوں فوجی کارروائی کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی تازہ لہر آئی تھی اور خدشہ ہے کہ اگر اس قسم کی مزید کارروائیاں اگر ہوئیں تو متاثرین کا مسئلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔







