متحدہ کی یقینی دہانی، عوامی تحریک کی ہڑتال منسوخ

قومی عوامی تحریک نے الطاف حسین کے علیحدہ سندھ صوبے کے مطالبے کے خلاف ہڑتال کی کال دی تھی
،تصویر کا کیپشنقومی عوامی تحریک نے الطاف حسین کے علیحدہ سندھ صوبے کے مطالبے کے خلاف ہڑتال کی کال دی تھی
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے علیحدہ صوبے کے بیان کے خلاف قومی عوامی تحریک نے ہڑتال کا اعلان واپس لے لیا ہے۔

گزشتہ شب سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کی سربراہی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ایک وفد نے قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو سے ملاقات کی، جس کے بعد یہ اعلان واپس لیا گیا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجو کا کہنا تھا کہ متحدہ نے وضاحت کی ہے کہ الطاف حسین کے بیان کا مطلب سندھ کی تقسیم نہیں تھی اور نہ ہی آئندہ ایسی کوئی بات کی جائے گی۔

ایاز کا کہنا تھا کہ وہ ٹکراؤ نہیں چاہتے ہیں کیونکہ ٹکراؤ لاکھوں سندھی اور اردو بولنے والی ماؤں اور بہنوں کے بچے غیر محفوظ ہوجائیں گے، انہوں نے واضح کیا کہ اگر ہمارا پاکستان پیپلز پارٹی یا حکومت سے کوئی مسئلہ ہے تو اس میں سندھ کی یکجہتی اور وحدت کو درمیان میں نہیں لانا چاہییے۔

متحدہ کے رہنما وسیم احمد اور کنور جمیل کا کہنا تھا کہ شہری آبادی کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے انہیں امید ہے کہ اس زیادتی کے خلاف وہ ان کا ساتھ دیں گے، بقول ان کے بلدیاتی حلقہ بندیوں میں شہری علاقوں سے زیادتی کی گئی تھی۔

اس سے پہلے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے کہا تھا کہ اگر پیپلزپارٹی والے سندھ کے عوام کو ایک نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے تو پھر بہتر یہ ہوگا کہ پیپلزپارٹی کے سندھی عوام کے لیے صوبہ سندھ ون اور جنھیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیں کرتی ان کے لیے صوبہ سندھ ٹو بنا دیں۔

لندن سے کراچی میں ایک جلسے سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شہری سندھ کی عوام نمبر ٹو بننے کو تیار ہیں۔

’سندھ ون اور سندھ ٹو، دونوں سندھ دھرتی کی خدمت کریں اور یہ فیصلہ دنیا پر چھوڑ دیں کہ اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی میں صوبہ سندھ ون آگے ہے یا صوبہ سندھ ٹو بازی لے گیا۔‘

لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے سربراہ نے اس سے پہلے حیدرآباد میں جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ شہری سندھی آبادی پسند نہیں ہے تو پھر اردو بولنے والے سندھی آبادی کے لیے علیحدہ صوبہ بنایا جائے۔

الطاف حسین کے بیان پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پہلا رد عمل سامنے آیا جس میں انھوں نے سندھ کے ٹالپور حکمرانوں کے فوجی جرنل ہوش محمد شیدی کا مشہور نعرہ تحریر کیا کہ ’مر جائیں گے مٹ جائیں گے لیکن سندھ کسی کے ہاتھوں میں جانے نہیں دیں گے‘۔

بعد میں سندھ کی قوم پرست جماعتوں کا بھی سخت رد عمل سامنے آیا اور سنیچر کے روز کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے، ہڑتال اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے سنیچر کو وضاحتی بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ الطاف حسین نے سندھ کی نہیں بلکہ وسائل کی تقسیم کی بات کی تھی۔

کراچی میں اتوار کو جلسے سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ حیدرآباد کے جلسے میں انھوں نے یہ کہا تھاکہ اگر پیپلزپارٹی، سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کوقبول نہیں کرتی، انہیں برابر کا سندھی شہری نہیں سمجھتی اور ان کے جائز حقوق اس لیے نہیں دینا چاہتی کہ وہ اپوزیشن میں ہیں تو ایسی صورت میں وہ شہری سندھ کے سندھیوں کا علیحدہ صوبہ بنا دیں اور انھوں نے یہ ہرگز نہیں کہا تھا کہ سندھ کو تقسیم کر دیں۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ اگر پیپلزپارٹی والے سندھ بھر کے عوام کو ایک نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے تو پھر بہتر یہ ہوگا کہ سندھ کو سندھ ہی رہنے دیں۔ پیپلزپارٹی کے سندھی عوام کے لیے صوبہ سندھ ون اور جنھیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیں کرتی ان کے لیے صوبہ سندھ ٹو بنا دیں۔

شہری سندھ کے عوام نمبر ٹو بننے کو تیار ہیں، سندھ ون اور سندھ ٹو، دونوں سندھ دھرتی کی خدمت کریں اور یہ فیصلہ دنیا پر چھوڑ دیں کہ اپنی عوام کی ترقی وخوشحالی میں صوبہ سندھ ون آگے ہے یا صوبہ سندھ ٹو بازی لے گیا۔

ایم کیو ایم کے سربراہ نے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ انھوں نے اپنے عمل سے اعلان کر دیا ہے کہ وہ صوبہ سندھ نمبر ون کے مالک ہیں اور شہری سندھ میں بسنے والے غریب مہاجر، بلوچ، سندھی، پنجابی، پختون ، سرائیکی اور کشمیری عوام جنھیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیں کرتی وہ سب مل کر صوبہ سندھ ٹو میں رہ لیں گے۔

’آپ صوبہ سندھ ون میں مزے اڑائیں لیکن خدارا، ہمیں صوبہ سندھ ٹو میں جینے کا حق دے دیں۔‘

دوسری جانب سندھی رائٹرز اور تھنکرز فورم کی جانب سے پیر کو کراچی میں دو تلوار سے برطانوی ہائی کمیشن تک مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ہائی کمشنر کو یادداشت نامہ پیش کیا جائے گا، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ لوگوں کو بھڑکانے کے الزام میں الطاف حسین کے خلاف کارروائی کی جائے۔