ایم کیو ایم کا نئے صوبے بنانے کا مطالبہ

بعض سرائیکی تنظیمیں گیارہ مئی کے انتخابات کا بائیکاٹ کررہی ہیں
،تصویر کا کیپشنبعض سرائیکی تنظیمیں گیارہ مئی کے انتخابات کا بائیکاٹ کررہی ہیں

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے ایک بار پھر پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سے پہلے جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کے قیام کی تحریک سامنے آنے کے بعد انھوں نے یہ مطالبہ کیا تھا۔

ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق الطاف حسین کا کہنا تھا کہ قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم، تمام نسلی ولسانی اکائیوں میں احساس محرومی کے خاتمے کے لیے فی الفور نئے صوبوں کا قیام عمل میں لایاجائے۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اور اربابِ اختیار کو چاہیے کہ وہ دیگرمسائل پر آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے ساتھ ساتھ ملک میں وسائل کی مساوی تقسیم اور ہر کسی کو برابر کے پاکستانی ہونے احساس دلانے اور انتظامی یونٹس کی تشکیل کے لیے بھی اے پی سی منعقد کرکے صوبوں کے قیام کی ہنگامی بنیادوں پرکوششیں کریں۔

الطاف حسین نے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو قائم ہوئے 66 برس گزر چکے ہیں اور ملک کی گاڑی انتظامی لحاظ سے کبھی ون یونٹ، کبھی دو یونٹ اور 1971ء کے بعد 4 یونٹوں پر منقسم ہوکر کھڑی ہے۔

ان کے مطابق ملک کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے لیکن بہتر طریقے سے حکومت چلانے کےلیے نئی انتظامی تبدیلیاں یا اقدامات نہیں کئےگئے۔

کہ دیگر قومی مسائل پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کے ساتھ ساتھ