’پاکستان کا بجٹ خسارہ آٹھ فیصد رہ گیا‘

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومت کی چھ ماہ کی کامیاب معاشی پالیسوں کی وجہ سے بجٹ خسارہ آٹھ اعشاریہ آٹھ فیصد سے کم ہوکر آٹھ فیصد تک رہ گیا ہے۔
بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے علاوہ صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وزیرِاعظم نواز شریف نے جب اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تو اس وقت ملک کی معاشی صورت حال انتہائی خراب تھی اور ساری دنیا کہہ رہی تھی کہ پاکستان بہت جلد دیوالیہ ہو جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ چھ ماہ کا عرصہ معاشی پالیسیاں بہتر بنانے کےلیے کچھ بھی نہیں ہوتا لیکن پھر بھی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے کچھ حد تک بہتری کی جانب پیش رفت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کامیاب معاشی پالیسوں کے باعث بجٹ خسارہ آٹھ اعشاریہ آٹھ فیصد سے کم ہوکر آٹھ فیصد تک رہ گیا ہے اور اس کے لیے وزیراعظم، وفاقی وزرا اور مختلف اداروں کے صوابدیدی فنڈر ختم کیے گئے ہیں۔
اسحاق ڈار کے مطابق معیشت کی خرابی کے باعث گزشتہ سال پاکستان میں صرف 12.6 فیصد تک سرمایہ کاری ہوئی تاہم موجودہ معاشی سال میں بیرونی سرمایہ کاری میں بہتری کے امکانات ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے پانچ ماہ میں 206 ارب روپے کے نئے نوٹ چھاپے ہیں۔
گردشی قرضے کے خاتمے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ِخزانہ نے کہا کہ اس قرضے کی ادائیگی سے صنعتی ترقی چھ اعشاریہ آٹھ فیصد تک ہوگئی ہے اور ملک میں لوڈشیڈنگ میں بھی کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے ۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ گردشی قرضے کی مد میں مختلف کمپنیوں کو کی گئی ادائیگیوں کی تمام تر تفصیلات وزراتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر ڈال دی گئی ہیں تاکہ کسی کو کوئی شک و شبہ نہ رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر خزانہ نے کہا کہ نئی حکومت کے قائم ہونے کے بعد سے ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کافی حد تک بہتری ہوئی ہے اور اگلے دو سالوں میں اسے مزید بہتر بنانے کےلیے کوششیں کی جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے آئندہ پانچ سالوں میں زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے جسے حاصل کرنے کےلیے معاشی اصلاحات کی جا رہی ہیں۔







