یورپی پارلیمنٹ کا پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ

یورپی پارلیمنٹ نے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت پاکستانی برآمدات کو عمومی قواعد سے استثنیٰ مل جائے گا۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کے حق میں چار سو چھ ووٹ آئے جب کہ ایک سو چھیاسی رائے دہندگان نے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دینے کی مخالفت کی۔
اس سکیم پر یکم جنوری 2014 سے عمل ہو گا۔
وزیر اعظم میاں نواز شریف نے یورپی یونین کے اس فیصلے کو پاکستانی مصنوعات پر اعتماد کے اظہار کے مترادف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کامیابی حکومت کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔
اس پیشرفت کا سب سے زیادہ فائدہ ٹیکسٹائل اور کپڑے کی صنعت کو ہوگا۔
یہ درجہ بنگلہ دیش اور سری لنکا کے پاس پہلے ہی موجود ہے اور پاکستان اب ان ممالک سے مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور نے ایک انٹرویو میں جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل کرنے کو پاکستان کی ایک شاندار تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد آل پاکستان ٹیکسٹائلز ملز ایسوسی ایشن کو سالانہ دس کھرب روپے کا منافع حاصل ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ پاکستان سنہ 2017 تک یورپی ممالک کو بغیر کسی ڈیوٹی کے ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کر سکے گا اور اس کی برآمدات میں ایک ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کے اہم گروپوں نے پاکستان کی حمایت کی ہے۔







