’مشرف پر غداری کے مقدمے کی حمایت پر سینیٹروں کو دھمکیاں‘

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں عوامی نشینل پارٹی کے سینیٹر زاہد خان، پیپلز پارٹی کے رضا ربانی اور حکمران جماعت کے سینیٹر اسحاق ڈار کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں جن میں خبردار کیا گیا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنے کی حمایت پر انھیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سینیٹر زاہد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سنیٹر رضا ربانی کے دفتر میں سات آٹھ دن پہلے کوئی شخص خط چھوڑ گیا تھا اور کل رات رضا ربانی کے سٹاف نے انھیں خط دیا جس کے بعد انھوں نے مجھے فون کر کے بتایا کہ ’ایک خط ملا ہے جس میں میرا اور آپ کا ذکر ہے‘۔
’اس خط کا لبِ لباب گالی گلوچ تھا لیکن اس میں مطلب یہ تھا کہ آرٹیکل چھ اور مشرف کے خلاف کارروائی پر آپ غلط کر رہے ہیں اور اس کی سزا آپ کو ملے گی، جس میں اغوا کر کے تشدد کرنے، مارنے اور ذبح کرنے کا ذکر کیا گیا تھا۔‘
’اس کے بعد صبح سینیٹر رضا ربانی کے دفتر میں ملاقات ہوئی اور خط کے بارے میں بات ہوئی اور ہم نے یہی کہا کہ اسے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ لیکن اس دوران دفتر میں کام کرنے والا ایک ملازم آیا اور اس نے ایک لفافہ دیا جس میں دو خط تھے۔ ایک میرے لیے تھا اور دوسرا سینیٹر رضا ربانی کے لیے تھا‘۔
’ان دونوں خطوط میں بھی پہلے خط کی زبان استعمال کی گئی تھی اور فرق صرف اتنا تھا کہ مجھے علیحدہ سے خط بھیجا گیا جس میں مسلم لیگ نون کے رہنما سینیٹر اسحاق ڈار کا بھی ذکر تھا، میرا خط پنجابی میں تھا جبکہ رضا ربانی کا خط اردو زبان میں تھا۔‘
خط کے بارے میں بات کرتے ہوئے سینیٹر زاہد خان نے بتایا کہ خط ایوان میں موجود ڈاک خانے کے ذریعے ان تک پہنچا اور اس کے بعد ہم دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کی تحقیقات چیئرمین سینیٹ اور حکومت کرے، اور خط ایوان میں پیش کر دیے گئے کہ ان کی تحقیقات کی جائیں۔

اس سوال پر کہ خط کون بھیج سکتا ہے، سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ ’اس پر ابھی کوئی بیان نہیں دے سکتے لیکن ظاہر ہے کہ ان (مشرف) پر آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ درج ہوا اور چل رہا ہے، اور اس پر کس کو تکلیف ہو سکتی ہے، ان ہی لوگوں نے کیا ہو گا جنھیں اس پر تکلیف ہوتی ہو گئی اور کسی کو کیا ضرورت ہے کہ وہ ایسی باتیں کرے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے سابق فوجی صدر مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں حکمرانی کا حق عوام کا ہے نہ کہ کسی ڈکٹیٹر کا۔ اس وقت وہ ڈکٹیٹر موجود ہے جس نے آئین کو پامال کیا تھا تو یہ وقت ہے کہ کسی کو سزا دے دیں تاکہ آئندہ کے لیے ایسا کوئی نہ کرے اور اس پر ان کے لوگ نالاں ہو رہے ہیں حالانکہ یہ معاملہ اب حکومت اور عدلیہ کا ہے‘۔







