’غداری‘ کا مقدمہ، خصوصی عدالت کی تشکیل

حکومتِ پاکستان نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے کی سماعت کے لیے تین رکنی خصوصی عدالت تشکیل دے دی ہے۔
منگل کی شام وزیراعظم پاکستان آفس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تین رکنی عدالت کی سربراہی سندھ ہائی کورٹ سے جسٹس فیصل عرب کریں گے جبکہ دیگر دو ارکان میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس یاور علی اور بلوچستان ہائی کورٹ کی جسٹس طاہرہ صفدر شامل ہیں۔
بیان کے مطابق یہ خصوصی عدالت مقدمے کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں کرے گی۔
اس سے قبل پاکستان کی سپریم کورٹ نے منگل کو ہی سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے لیے پانچ ججوں کے نام حکومت کو بھیجے تھے۔
جن ججوں کے نام بھجوائے گئے تھے ان میں لاہور ہائی کورٹ سے جسٹس یاور علی، سندھ ہائی کورٹ سے جسٹس فیصل عرب، پشاور ہائی کورٹ سے جسٹس یحییٰ آفریدی، بلوچستان ہائی کورٹ سے جسٹس طاہرہ صفدر اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے جسٹس نور الحق قریشی شامل تھے۔
سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ ان پانچ ججوں میں سے خود ہی تین ناموں کا انتخاب کرے اور ان میں سے سینیئر ترین جج کو کورٹ کا سربراہ مقرر کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کی وفاقی وزارت قانون نے پیر کو پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑے پر غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا اور کہا تھا کہ عدالت عظمیٰ اس مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت کے قیام کے سلسلے میں تین ججوں کی نامزدگی کرے۔
خط میں کہا گیا تھا کہ چونکہ اس وقت ملک میں پانچ ہائی کورٹس ہیں جن میں سے حکومت کو تین ججوں کی نامزدگی میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
اس کے بعد سپریم کورٹ نے ملک کی تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹسوں کو 19 نومبر تک اس عدالت کے لیے ججوں کے نام بھجوانے کے لیے کہا تھا۔
بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اگرچہ حکومت نے عدالت کی تشکیل کے لیے سپریم کورٹ سے کہا تھا تاہم عدالتِ عظمیٰ نے اب گیند دوبارہ حکومت کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔
سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی بینچ کی تشکیل کے بعد یہ بینچ اسلام آباد ہی میں اس مقدمے کی سماعت کرے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق خصوصی بینچ کی تشکیل کے بعد سیکریٹری داخلہ اس بینچ کے سامنے شکایت کنندہ کے طور پر پیش ہوں گے جس کے بعد عدالت سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کے مقدمے میں عدالتی کارروائی کا آغاز کر دے گی۔

وفاقی حکومت نے ذوالفقار عباس نقوی ایڈوکیٹ کو اس مقدمے کے لیے سپیشل پراسکیوٹر مقرر کیا ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ سابق فوجی صدر کے تین نومبر 2007 کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور عدالت کا کہنا ہے کہ اُن کے اقدامات آئین سے غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق مشرف کے خلاف آئین توڑنے کے مقدمے میں سزا ہونے کی صورت میں وہ پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکیں گے۔ پاکستانی آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت اور عمر قید ہے اور قانونی ماہرین کے مطابق یہ عدالت کی صوبداید ہے کہ وہ کیا سزا تجویز کرتی ہے۔
خیال رہے کہ تین نومبر 2007 کو بطور فوجی صدر پرویز مشرف نے آئین معطل کرتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی جس کے بعد ملک کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے 60 ججوں کو نظر بند کر دیا گیا تھا۔







