پرویز مشرف اب آزاد شہری ہیں: وکیل

لال مسجد کیس میں پرویز مشرف کا چودہ روزہ عدالتی ریمانڈ دیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنلال مسجد کیس میں پرویز مشرف کا چودہ روزہ عدالتی ریمانڈ دیا گیا تھا

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے لال مسجد کے نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی کے قتل کے مقدمے میں پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج واجد علی درخواستِ ضمانت پر پیر کی صبح فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو دوپہر کو سنایا گیا۔

جج نے پرویز مشرف کو ایک ایک لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔

پیر کو سماعت کے دوران مدعی مقدمہ کے وکیل طارق اسد نے عدالت میں مزید چار گواہوں کے بیانات پیش کیے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار کے مطابق اُنہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم پرویز مشرف کی ضمانت منظور نہ کی جائے کیونکہ اُنہوں نے ملزم کی ضمانت کی درخواست کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک حکم امتناعی کی درخواست دائر کر رکھی ہے جس کا جلد فیصلہ آجائے گا جس پر متعلقہ عدالت نے ضمانت کی درخواست پر سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔

تاہم مدعی مقدمہ کے وکیل اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے ایسا کوئی حکم نامہ عدالت میں پیش نہیں کر سکے جس کے بعد عدالت نے ضمانت کی درخواست منظور کرلی۔

خیال رہے کہ چوتھا اور آخری مقدمہ تھا جس میں سابق فوجی صدر نے ضمانت کی درخواست دی تھی۔

اس سے قبل پرویز مشرف کو اُن کی عدم موجودگی میں درج ہونے والے تین مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے جس میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل، اعلی عدلیہ کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے اور نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمات شامل ہیں۔

بینظیر بھٹو کے قتل اور اعلی عدلیہ کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمات میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر فرد جُرم عائد ہو چکی ہے۔

پرویز مشرف کے وکیل الیاس صدیقی کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل اب آزاد شہری کی طرح گھوم پھر سکتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف اب کوئی مقدمہ نہیں ہے اور اسلام آباد کی انتظامیہ اُن کے موکل کی رہائش گاہ کو اب سب جیل قرار نہیں دے سکتی۔

اسلام آباد کی انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق جب اس مقدمے میں ضمانتی مچلکے جمع ہو جائیں گے تو پرویز مشرف کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا جانے والا حکم خود بخود ہی ختم ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے سیکورٹی خدشات کی بنا پر پرویز مشرف کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا تھا اور اُن کی حفاظت کے لیے تین سو سے زائد اہلکار اُن کی رہائش گاہ کے باہر تعینات ہیں۔

سپریم کورٹ نے وزارت داخلہ کو سابق فوجی صدر کا نام ای سی ایل یعنی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا ہے کہ سابق فوجی صدر کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کے کیے حکومت کو درخواست دی جائے گی۔

وزیر اعظم نواز شریف نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کر رکھا ہے تاہم اس ضمن میں وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں قائم ہونے والی کمیٹی نے ابھی تک اپنی حتمی رپورٹ پیش نہیں کی۔