کامران مرتضیٰ سپریم کورٹ بار کے صدر منتخب

پاکستان میں 2720 وکلاء سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رکن ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں 2720 وکلاء سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رکن ہیں

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر اور وکیل کامران مرتضیٰ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے سینیئر وکلا کی نمائندہ تنظیم کے انتخابات میں جمعرات کو چاروں صوبائی دارالحکومتوں اور اسلام آباد کے علاوہ ملتان، بہاولپور، ایبٹ آباد اور سکھر میں ووٹ ڈالے گئے اور وکلاء کی بڑی تعداد نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔

سپریم کورٹ بار کی صدارت کے لیے کامران مرتضٰی اور امان اللہ کنرانی کے درمیان مقابلہ تھا اور بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق دونوں امیدواروں کے مابین سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی تھی۔

ابتدائی نتائج کے مطابق کامران مرتضیٰ نے 1032 وٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف 874 ووٹ حاصل کر سکے۔

سپریم کورٹ بار کے نئے صدر کا تعلق جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ ہے اور انہیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیرگروپ کی حمایت حاصل تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حامد خان ایڈووکیٹ کا گروپ پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت میں بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے پر فائز رہنے والے امان اللہ کُنرانی کی حمایت کر رہا تھا۔

ِخیال رہے کہ یہ لگاتار چوتھا سال ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں عاصمہ جہانگیر گروپ کے حمایت یافتہ اُمیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے۔

پاکستان میں 2720 وکلاء سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رکن ہیں ان میں سب سے زیادہ تعداد صوبہ پنجاب میں ہے جو 1839 ہے۔

اس کے علاوہ صوبہ سندھ میں 453، خیبر پختونخوا میں 267 اور بلوچستان کے 161 وکلاء اس ایسوسی ایشن کے رکن ہیں۔

ان انتخابات میں یہ دیکھنے میں آیا ہے جو اُمیدوار پنجاب سے برتری حاصل کرلے وہ انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔