سابق وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ

سابق نیب چیئرمین نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ راجہ پرویز اشرف مقدمے میں ملزم نہیں ہیں
،تصویر کا کیپشنسابق نیب چیئرمین نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ راجہ پرویز اشرف مقدمے میں ملزم نہیں ہیں

قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشر ف کے خلاف کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس ریفرنس کی منظوری نیب کے پہلے ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں دی گئی جس کی صدارت نیب کے نئے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے کی۔

نیب کے اہلکار محمد رمضان ساجد نے بی بی سی کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نوڈیرو ون اور نوڈیرہ ٹو میں نامزد ملزم ہیں اور نیب نے کرائے کے ان دو بجلی گھروں سے متعلق اپنی تفتیش مکمل کرکے نیب کے اعلیٰ حکام کو بجھوا دی تھی تاہم چیئرمین کی تعیناتی نہ ہونے پر یہ معاملہ تعطل کا شکار تھا۔

<link type="page"><caption> وزیر اعظم کی گرفتاری کا حکم</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/01/130115_sc_rental_power_pm_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> رینٹل پاور: ’ریفرنس ٹھوس ثبوت کے بغیر بنائے گئے ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/01/130117_nab_rental_power_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

انہوں نے کہا ان دو ریفرنسوں میں دس مزید ملزمان ہیں جن کے خلاف پہلے ہی اس سال مئی میں احتساب عدالت میں عبوری ریفرنس تیار کیا گیا تھا۔ ان ملزمان میں وزارت پانی و بجلی کے شاہد رفیع، ایڈیشنل سیکرٹری شیخ ضرار اسلم، پیپکو کے سابق چیئرمین طاہر بشارت چیمہ اور دیگر افراد شامل ہیں۔

سابق وزیر اعظم کو اس ریفرنس سے متعلق جواب جمع کروانے کے لیے وقت دیا گیا تھا اور اُن سے اس بارے میں پوچھ گچھ بھی کی گئی تھی تاہم راجہ پرویز اشرف نیب کے حکام کو اپنے جواب سے مطمئن نہیں کرسکے تھے جس کے بعد اُن کے خلاف ریفرنس تیار کیاگیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت میں نیب کے سابق چیئرمین فصیح بخاری نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ <link type="page"><caption> راجہ پرویز اشرف اس ریفرنس میں براہ راست ملزم نہیں ہیں </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/06/120622_sc_rental_raja_rh.shtml" platform="highweb"/></link>اور نہ ہی اُن کے خلاف ایسے کوئی شواہد نیب کو موصول ہوئے ہیں۔

سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا تعلق بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے اور اُنہوں نے بطور وفاقی وزیر برائے پانی وبجلی کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں کی منظوری دی تھی۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے ان میں سے کچھ منصوبوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کرائے کے بجلی گھروں کے مالکان کو وہ تمام رقم واپس کرنے کا حکم دیا تھا جو اُنہوں نے حکومت پاکستان سے ایڈوانس میں حاصل کی تھی۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق تفتیش کرنے والے نیب کے اعلیٰ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کامران فیصل اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔

واضح رہے کہ نیب کے نئے چیئرمین قمر زمان چوہدری کی تعیناتی کے بارے میں سب سے پہلے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ وزیر اعظم نے اُن سے قمر زمان چوہدری کی بطور چیئرمین نیب کی تعیناتی کے لیے مشاورت کی تھی جس کی منظوری دی گئی ہے۔