گوجرانوالا: دو نوعمر لڑکیوں کی لاشیں برآمد

صوبہ پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ کے نواحی علاقے میں پولیس کو دو نوعمر لڑکیوں کی لاشیں ملی ہیں جنہیں تشدد کر کے ہلاک کیا گیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ان لڑکیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔
نوشہرہ ورکاں کی پولیس کے ایک اہلکار محمد رمضان کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی کہ سیم نالے کے قریب دو لڑکیوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ پولیس نے جائے حادثہ پر پہنچ کر لاشوں کو قبضے میں لے لیا۔
پولیس اہلکار کے مطابق ان مقتول لڑکیوں میں ایک 14 سالہ لڑکی نے کسی پرائیویٹ سکول کی وردی پہنی ہوئی تھی جب کہ دوسری لڑکی جس کی عمر 16سال کے قریب ہے، اس نے پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور بظاہر حُلیے سے وہ کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔
ان لڑکیوں کو سر اور سینے میں گولیاں ماری گئی ہیں۔ مقامی پولیس نے مقتولین کی شناخت کے لیے علاقے کی مساجد میں اعلان بھی کروائے لیکن کوئی بھی اُن کی شناخت کو نہیں آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان لڑکیوں کا تعلق کسی دوسرے علاقے سے ہے تاہم اُنہیں نوشہرہ ورکاں میں لا کر مارا گیا ہے۔
پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کردیا ہے جہاں پر جمعے کے روز اُن کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ان مقتول لڑکیوں کے جسم پر گولیوں کے علاوہ تشدد کے بھی نشانات ہیں جس سے اس بات کے امکانات واضح ہیں کہ اُنہیں نامعلوم افراد نے جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق ان لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے بعد اس بات کا بھی تعین ہوسکےگا کہ اُن کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے یا نہیں۔
سٹی پولیس آفسر راجہ رفعت کے مطابق ان لڑکیوں کی لاشوں کی شناخت کے لیے دوسرے اضلاع کی پولیس کو بھی لکھ دیا گیا لیکن ابھی تک اُن کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ گُذشتہ کچھ ہفتوں کے دوران پاکستان میں اور خصوصاً صوبہ پنجاب میں کمسن بچیوں کو جنسی تشدد کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور ماہرین کے مطابق قانون نافد کرنے والے ادارے ان واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
اس سے قبل پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ساحلی علاقے سی ویو سے پولیس کو ایک 13 سالہ لڑکی کی لاش ملی جسے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ہلاک کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے اسے لاش کی اطلاع ساحل کی حفاظت کرنے والے ادارے کے افراد نے دی۔







