بجلی چوری، یوٹیلٹی کورٹس کے قیام کا فیصلہ

پاکستان کی مشترکہ مفادات کونسل نے بجلی اور گیس چوروں کے خلاف کارروائی کے لیے یوٹیلٹی کورٹس کے قیام کی منظوری دی ہے۔
بدھ کو اسلام آباد میں مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سنہ 2015 تک 400 میگا واٹ تک پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے مکمل کیے جائیں۔
اس سے پہلے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سربراہی میں مشترکہ مفادات کونسل نے قومی توانائی پالیسی کی متفقہ طور پر منظوری دی اور اس پالیسی کو پاور پالیسی کا نام دیاگیا۔
<link type="page"><caption> توانائی بحران: سی این جی سٹیشن بند</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/04/100427_cng_stations_closed.shtml" platform="highweb"/></link>
مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ کے علاوہ متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔
بعدازاں توانائی پالیسی کے بارے میں پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی میں بجلی مذید مہنگی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
<link type="page"><caption> </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/04/100427_cng_stations_closed.shtml" platform="highweb"/></link>
اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف کے مطابق بجلی کی قیمتوں سے متعلق نئے ٹیرف کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بجلی پر دی جانے والی سبسڈی پر مرحلہ وار کمی کی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ تیل سے پیدا ہونے والی بجلی مہنگے داموں خریدی جا رہی ہے اور بجلی کی قیمت کو کم کرنے کے لیے کوئلے سے بجلی پیدا کی جائے گی۔
توانائی سے متعلق حکومت کے مشیر ڈاکٹر مصدق کا کہنا ہے کہ 5,000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے سات سے آٹھ ارب ڈالر درکار ہیں اور حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔
حکومت نے اس ضمن میں وزارتِ قانون سے سمری تیار کرنے، قصور وار پائے جانے والےافراد کے لیے سزا اور جرمانے کا تعین کرنے سے متعلق بھی قانون سازی کرنے کا کہا ہے۔
اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اجلاس میں 7,000 میگا واٹ تک کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبے کی منظوری دی گئی اور اسے کول کوریڈور کا نام دیا گیا۔
اس کے علاوہ دریائے جہلم پر 1,000 میگاواٹ کے قریب بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کو 2016 تک مکمل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
خیال رہے کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد قومی توانائی پالیسی تیار کی تھی جس کی منظوری مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں دی گئی تھی۔ توانائی پالیسی کی منظوری دو مرتبہ تعطل کا شکار رہی۔
مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کے مفاد میں تمام فیصلے مشاورت سے کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے مسائل کے حل کے لیے مکمل معاونت فراہم کرے گی۔
میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے کے لیے نئے اور جاری منصوبوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا جائے اور وفاق کی نظر میں تمام صوبوں کی اہمیت یکساں ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ دن گئے جب مخالفین کو نیچا دکھانے کی کوششیں کی جاتی تھیں۔
انھوں نے چاروں صوبائی وزراء اعلی کو کہا کہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں اصلاحات لے کر آئیں اور وفاقی حکومت اس ضمن میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔







