توانائی کی قومی پالیسی کی منظوری لیکن اعلان نہیں

حکومت توقع کر رہی ہے کہ ان نئے سمجھوتوں کے نتیجے میں سترہ سو میگا واٹ بجلی فوری طور پر دستیاب ہو جائے گی
،تصویر کا کیپشنحکومت توقع کر رہی ہے کہ ان نئے سمجھوتوں کے نتیجے میں سترہ سو میگا واٹ بجلی فوری طور پر دستیاب ہو جائے گی

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے قومی توانائی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔

نئی توانائی پالیسی میں حکومت بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دے گی۔

توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور حکومتی زعما کے درمیان کئی روز سے جاری مشاورت جمعہ کو منطقی انجام تک پہنچی جب وزیراعظم کی زیرسربراہی اعلیٰٰٰ سطح کے اجلاس میں اس قومی توانائی پالیسی کی نوک پلک درست کر کے اس کی حتمی منظوری دے دی گئی۔

<link type="page"><caption> ’عوام کو بجلی چاہیے،جمہوریت نہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/06/120602_punjab_shahbaz_electricity_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

ایوان وزیراعظم سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اس پالیسی کا اعلان بذات خود کریں گے تاہم اس کے لیے وقت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق اس نئی پالیسی کے بارے میں سرکاری طور پر تفصیل نہیں بتائی گئی تاہم حکومتی زعما کہتے رہے ہیں کہ فوری، درمیانی مدت کی اور طویل مدتی مرحلوں پر مشتمل اس پالیسی میں توانائی کے نئے ذرائع تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ دستیاب وسائل سے مزید بجلی حاصل کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اٹھارہ سے بیس ہزار میگاواٹ ہے جسے پوری طرح استعمال نہیں کیا جا رہا۔

ماہرین کے مطابق اس صلاحیت کو پوری طرح استعمال کر کے بجلی کے بحران کو چند دنوں میں نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

نجی کمپنیوں کے ساتھ نئے معاہدے

پاکستان میں جاری توانائی کے بحران کے خلاف کئی بار پرتشدد عوامی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں جاری توانائی کے بحران کے خلاف کئی بار پرتشدد عوامی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں

حکومت نے جمعہ کو ان بعض نجی کمپنیوں کے ساتھ نئے معاہدے کیے جو حکومت کے ساتھ تنازعات کے باعث بجلی یا تو بالکل پیدا نہیں کر رہے تھے یا صلاحیت سے بہت کم بجلی بنا رہے تھے۔

انڈی پنڈنٹ پاور پروڈیوسرز یا آئی پی پیز کے نام سے مشہور بجلی پیدا کرنے والے ان بجلی گھروں میں سے بعض کے ساتھ حکومت نے تنازعات حل کرتے ہوئے نئے سرے سے معاہدے کیے ہیں۔

ان نجی بجلی گھروں کے مشیر عبداللہ یوسف نے بی بی سی کو بتایا کہ بعض بجلی گھروں کے ساتھ معاہدے یا ایم او یو پر جمعہ کو دستخط کر دیے گئے ہیں اور بعض پر آئندہ ایک دو روز میں دستخط کر دیے جائیں گے۔

ان نئے معاہدوں کے تحت حکومت اپنے ذمہ واجب الادا رقوم (جسے عرف عام میں گردشی قرضے کہا جا تا ہے) فوری طور پر ادا کر دے گی جس کے بدلے یہ بجلی گھر اپنی پیداوار بڑھائیں گے۔

اس کے علاوہ ان میں سے بعض بجلی گھروں نے تیل کی بجائے اپنے پلانٹس کوئلے سے چلانے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے جس سے حکومتی اخراجات میں کمی ہو گی اور گردشی قرضوں کو دوبارہ جمع ہونے سے روکا جا سکے گا۔

آئی پی پیز کے ساتھ اس نوعیت کے سمجھوتوں کی منظوری جمعرات کو معاشی فیصلہ سازی کے ادارے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دی تھی۔

حکومت توقع کر رہی ہے کہ ان نئے سمجھوتوں کے نتیجے میں سترہ سو میگا واٹ بجلی فوری طور پر دستیاب ہو جائے گی۔

اس کے علاوہ طویل مدت کے دوران بجلی کے نرخ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

نئی توانائی پالیسی میں حکومت بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دے گی۔ بعض اندازوں کے مطابق پاکستان میں پینتیس فیصدتک بجلی ناقص نظام ترسیل کے باعث ضائع ہو جاتی ہے جبکہ اس کی قابل قبول حد اٹھارہ سے بیس فیصد تک ہے۔

پاکستان میں توانائی کا بحران گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور اس کے خلاف متعدد بار پرتشدد احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

مسلم لیگ نون نے گیارہ مئی کے ان انتخابی مہم کے دوران بجلی کے مسئلے پر سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اس بحران کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔