کرک:’خواتین بغیر مِحرم بازار کا رخ نہ کریں‘

شدت پسندی سے متاثرہ صوبے کے جنوبی اضلاع میں پہلے بھی خواتین کو پابندیوں کا سامنا رہا ہے
،تصویر کا کیپشنشدت پسندی سے متاثرہ صوبے کے جنوبی اضلاع میں پہلے بھی خواتین کو پابندیوں کا سامنا رہا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کرک میں پولیس حکام نے مقامی علماء کی جانب سے ماہِ رمضان میں خواتین کے بغیر مِحرم بازاروں میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کو غیرضروری اور خلافِ قانون قرار دیا ہے۔

جمعہ کو کرک میں مقامی علماء کرام کا ایک اجلاس جمعیت علماء اسلام (ف) کے سابق ضلعی صدر حافظ ابن سعید کی صدارت میں منعقد ہوا تھا جس میں علاقے کے سرکردہ عالم دین اور علماء کرام نے شرکت کی۔

اجلاس میں شریک خٹک اتحاد کرک کے صدر مولانا میر زقیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ہر سال کرک میں ماہ رمضان کے دوران سینکڑوں خواتین بازاروں میں خریداری کے لیے بغیر محرم کے آتی ہیں جس سے ان کے بقول علاقے میں بےحیائی پھیل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کا اس طرح اکیلے بازاروں میں گھومنا نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ پشتون روایات اور مقامی طور طریقوں میں بھی اس کی اجازت نہیں۔ ان کے بقول بازاروں میں آنے والی عورتیں پردے کا بھی کوئی خاص اہتمام نہیں کرتی جس سے علاقے کا ماحول خراب ہو رہا ہے۔

<link type="page"><caption> ’روزہ نہ رکھنے والوں کے لیے 20 کوڑوں کی سزا‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/07/130710_waziristan_ramzan_taliban_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

مولانا میر زقیم کے مطابق خواتین پر پابندی کے فیصلے کو دکانداروں اور عوام نے سراہا ہے جبکہ اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ سے بھی بات ہوئی ہے۔

تاہم دوسری طرف کرک پولیس کے سربراہ عتیق اللہ خان وزیر نے خواتین پر پابندی کے فیصلے کو غیر ضروری اور خلاف قانون قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ علماء کو ایسا کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ کسی پابندیاں لگائے یا احکامات جاری کرے۔

بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس سربراہ نے مزید بتایا کہ قانون کے مطابق ملک کے ہر شہری کو ملک کے کسی بھی علاقے میں آنے جانے کی آزادی حاصل ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اس پر کوئی قدغن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے شہری مرد یا عورت کی آزادی کو سلب کرے۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی خاتون یا مرد کسی جرم یا بے حیائی میں ملوث پایا گیا تو اس کے لیے ملکی قوانین موجود ہیں جس کے تحت ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے تاہم کسی شخص کو یہ حق ہر گز حاصل نہیں کہ اپنے طور سے کوئی حکم جاری کرے یا کسی کے خلاف کوئی فیصلہ دے۔

عتیق اللہ وزیر نے کہا کہ انہوں نے علماء کرام کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں ان سے اس مسئلے پر بات کی جائے گی۔

دوسری جانب انسانی حقوق اور خواتین تنظیموں نے اس فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور علماء کرام کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں علماء کرام کی طرف سے خواتین پر پابندیوں کے اعلانات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں

گزشتہ سال جنوبی ضلع لکی مروت کے تحصل نورنگ میں بھی خواتین کا بازاروں میں بغیر محرم کے نکلنے پر پابندی لگائی گئی تھی۔

اس کے علاوہ بعض قبائلی علاقوں میں شدت پسند گروہوں کی جانب سے ماہِ رمضان کے دوران خواتین اور مردوں پر سخت پابندی عائد کی جاتی ہیں۔