توقیر صادق چودہ دن کے جسمانی ریمانڈ پر

دو ہزار گیارہ میں سپریم کورٹ نے اوگرا کے چیئرمین کی حیثیت سے ان کی تقرری کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا
،تصویر کا کیپشندو ہزار گیارہ میں سپریم کورٹ نے اوگرا کے چیئرمین کی حیثیت سے ان کی تقرری کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا

اسلام آباد کی احستاب عدالت نے تیل اور گیس کے انتظامی ادارے کے سابق چیئرمین توقیر صادق کو چودہ دن کے جسمانی ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو کے حوالے کر دیا ہے۔

توقیر صادق پر سی این جی لائسنس اور دیگر غیر قانونی اقدامات کے ذریعے، سرکاری خزانے کو بیاسی ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ توقیر صادق سال دو ہزار گیارہ سے ملک سے فرار تھے۔

قومی احتساب بیوروکی ایک ٹیم نے توقیر صادق کو متحدہ عرب امارات میں گرفتار کیا تھا۔احتساب بیورو کے حکام پیر کی رات انہیں متحدہ عرب امارات سے واپس ملک لے کر آئے ہیں۔

ملزم کو منگل کو احتساب عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور ان کے چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی۔

مقدمے کی سماعت کے دوران توقیر صادق نے عدالت میں بیان دیا کہ نیب کے حکام نے انہیں دھمکیاں دی ہیں۔

تاہم عدالت نے انہیں چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

عدالت نے توقیر صادق کی جانب سے تشدد کے الزام پر ان کا طبی معائنہ کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔

ملزم کو تئیس جولائی کو عدالت میں دوبارہ پیش کیا جائے گا۔

توقیر صادق سنہ دو ہزار نو سے لے کر سنہ دو ہزار بارہ تک تیل اور گیس کے انتظامی ادارے اوگرا کے چیئرمین کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔

نومبر سنہ دو ہزار گیارہ میں سپریم کورٹ نے اوگرا کے چیئرمین کی حیثیت سے ان کی تقرری کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا اور نیب کو اس سلسلے میں تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ جس کے بعد وہ ملک سے فرار ہوگئے تھے۔