فرید خان کا قاتل گرفتار کرنے کا دعویٰ

تین جون کو ضلع ہنگو میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ممبر صوبائی اسمبلی فرید خان ہلاک ہو گئے تھے
،تصویر کا کیپشنتین جون کو ضلع ہنگو میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ممبر صوبائی اسمبلی فرید خان ہلاک ہو گئے تھے

اسلام آباد پولیس نے تحریک انصاف کے رہنما فرید خان کے قاتل سمیت کالعدم تنظیم کے دو اہم عہدیداروں کوگرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے

اسلام آباد پولیس کے تفتیشی شعبے کے سربراہ مستنصر فیروز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کو اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول سے حراست میں لیا گیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے افراد میں شامل آصف اللہ اور عابد خان نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ اُنہیں فرید خان کو مارنے سے متعلق ہدایات ہنگو میں مقامی کالعدم عسکری تنظیم کے کمانڈر نبی مُلاحنفی نے دی تھی جن کے فرید خان کے ساتھ اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق ملزمان کا تعلق غیر معروف عسکری تنظیم جمعیت اسلامی سے ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ملزم نے مزید بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی فرید خان علاقے میں شدت پسندی کے خلاف تھے اور وہ قانون کے عملداری چاہتے تھے جو کہ مُلا حنفی کو ناگوار گُزری تھی۔

ملزم کے مطابق مقامی عسکری تنظیم کے کمانڈر نے ان سمیت جہانزیب، قادر حفیظ اور عابد خان کو ہدایات جاری کیں تھیں کہ وہ فرید خان کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں اور بعدازاں رکن صوبائی اسمبلی کو تین جون کو ہنگو کے علاقے میں ہلاک کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان سینتیس سے زائد شدت پسندی، قتل اور اقدام قتل کے وارداتوں میں ملوث رہے ہیں اور یہ ملزمان اُس فہرست میں شامل ہیں جو پولیس کو انتہائی مطلوب ہیں۔

ملزم آصف اللہ کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ٹارگٹ کلنگ سکواڈ کی قیادت بھی کرتے رہے ہیں۔