ہنگو:تیسرے دن بھی کرفیو، ہلاکتوں کی تعداد نو

فرید خان پیر کو فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے
،تصویر کا کیپشنفرید خان پیر کو فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں تحریک انصاف کے رہنما اور ممبر صوبائی اسمبلی فرید خان کی ہلاکت کے بعد شہر میں تیسرے روز بھی کرفیو نافد ہے جبکہ فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو ہوگئی ہے۔

ہنگو میں ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہنگو شہر اور مضافاتی علاقوں میں فائرنگ کے واقعات پیش آئے ہیں اور زیادہ تر ہلاکتیں سپین خاورائی کے علاقے میں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں تیسرے روز بھی کرفیو نافذ ہے اور کرفیو کی وجہ سے شہر میں تمام تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔

اہلکار کے مطابق شہر میں حالات بدستور خراب ہیں جس پر قابو پانے کے لیے پولیس، ایف سی، سکاؤٹس فورس اور فوجی جوان گشت کرنے میں مصروف ہیں۔

ہنگو فرقہ وارانہ طور پر ایک حساس علاقہ ہے اور پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ یہاں کرفیو ہٹائے جانے کے معاملے پر سوچ بچار کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ پیر کو ہنگو میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے تحریکِ انصاف کے رہنما اور ممبر صوبائی اسمبلی فرید خان ہلاک ہو گئے تھے۔

فرید خان نے گیارہ مئی کے عام انتخاب میں پہلی مرتبہ حصہ لے کر سیاست کے میدان میں بھی قدم رکھا تھا۔وہ آزاد حیثیت سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد میں تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔

فرید خان نے ہنگو سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے مضبوط ترین امیدوار عتیق الرحمان کو شکست دی جو اس سے پہلے دو مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔

فرید خان بچپن سے علاقے میں فلاحی کاموں میں دلچسپی لیتے رہے جس کی وجہ سے ان کا عوام سے ایک مضبوط رابطہ قائم رہا اور بعد میں وہ اسی بنیاد پر ضلع میں ایک رہنما کے طور پر بھی سامنے آئے۔ وہ لوگوں کے مسائل بغیر کسی مالی فائدے کے حل کرنے کے حوالے سے پورے علاقے میں شہرت رکھتے تھے۔

صوبائی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب وہ ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں کاغذاتِ نامزدگی داخل کرانے گئے تو اس وقت ان کے جیب میں صرف سو روپے تھے جو اس وقت ان کا کل اثاثہ تھا۔

ان کے مطابق انتخابی مہم کے زیادہ تر اخراجات بھی ان کے دوستوں اور رشتہ دار نے برداشت کیے۔