’ن لیگ ایک بےصبر پاکستان میں کامیاب ہوئی ہے‘
پاکستان میں 11 مئی کے انتخابات کے بعد ایک نئی حکومت کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور نواز شریف ملک کی تاریخ میں پہلی بار تیسری مدت کے لیے وزیرِاعظم بننے جا رہے ہیں۔
انتخابات میں بےقاعدگیوں اور دھاندلی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں اور اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیو گردش کر رہی ہیں۔
پاکستانی ووٹروں نے کیا سوچا، کیا دیکھا؟ ذیل میں ان کے تجربات و تاثرات پیش کیے جا رہے ہیں۔
عائشہ شوکت، عمر 42 سال، سماجی کارکن، اسلام آباد

میں نے اور میرے تمام خاندان نے عمران خان کو ووٹ دیا۔ نواز شریف کی فتح نے ہمیں حیران نہیں کیا، لیکن ہمارا خیال تھا کہ انھیں اتنی زیادہ نشستیں نہیں ملیں گی۔
اسی طرح ہمیں عمران خان کی جیت کی بھی توقع نہیں تھی، لیکن میں امید کر رہی تھی کہ وہ آدھ درجن مزید نشستوں پر کامیاب ہو جائیں گے۔
اس لیے میرا خیال ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ اس وقت دھاندلی کی بہت باتیں ہو رہی ہیں، اگرچہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دھاندلی نہیں دیکھی لیکن لاہور میں میرے خاندان والوں نے دیکھی ہے۔
میرے کزن اور چچی کو ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا۔ ان سے شناخت مانگی گئی اور ان کے نام کے آگے انگوٹھے لگوائے گئے لیکن پھر انھیں ووٹ کی پرچی نہیں دی گئی۔
ان کے ارد گرد تمام خواتین کا یہی حال تھا۔ وہ خاصی دیر تک پرچی کے لیے شور مچاتی رہیں لیکن آخرکار گھروں کو چلی گئیں۔غالباً کسی اور نے ان کی جگہ ووٹ ڈال دیا تھا۔ یہ اس علاقے میں ہوا جہاں سے مسلم لیگ ن کا امیدوار جیت گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مجموعی طور پر میں خوش ہوں کہ پاکستان نے پیپلزپارٹی کو گھر بھیج دیا۔ یہ وہ نتیجہ نہیں ہے جس کی مجھے امید تھی تاہم کوئی بھی متبادل پیپلزپارٹی سے بہتر ہے۔ بھٹو خاندان اب پاکستان کے لیے غیر متعلق ہو گیا ہے۔
نواز شریف کے سامنے بہت بڑا چیلنج ہے۔ ہر چیز کا دارومدار اس بات پر ہے کہ انھوں نے ماضی سے سبق سیکھا ہے یا نئی حقیقتوں سے آگاہ ہوئے ہیں یا نہیں۔
لوگوں کو بلٹ ٹرینوں کی نہیں، بلکہ خوراک، صحت، تعلیم اور پانی کی فکر ہے۔ نواز لیگ نے ایک بےصبر پاکستان میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر انھوں نے کارکردگی نہیں دکھائی تو انھیں بھی پانچ برسوں میں دروازہ دکھا دیا جائے گا۔
فہد عزیز، طالب علم، لاہور

میں نے مسلم لیگ نواز کو ووٹ دیا، اور میں نتائج سے بہت خوش ہوں۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ انتخابات پوری طرح منصفانہ تھے، لیکن یہ ماضی میں ہونے والی دھاندلیوں کے مقابلے پر بہت بہتر تھے۔
میں نے بہتر پاکستان کے لیے ووٹ دیا۔ میں نے گذشتہ پانچ برسوں میں مسلم لیگ نواز کی صوبائی حکومت میں بڑی ترقی دیکھی ہے۔ لاہور کی سڑکوں پر سفر کرنا پہلے سے مختلف تجربہ ہے۔ اکثر سڑکوں کی مرمت کی جا چکی ہے اور نئی میٹرو بس سے ہزاروں مسافروں کو فائدہ ہو رہا ہے۔
طلبہ کو میرٹ پر لیپ ٹاپ اور شمسی لیمپ دیے گئے ہیں۔ اس سے پہلے اس قدر آرٹ کی نمائشیں کبھی نہیں ہوئیں۔
اگر یہ جماعت قومی سطح پر اپنا کام کرتی رہی تو یہ ملک کے لیے بہت بہتر ہو گا۔ میں بطورِ طالبِ علم پہلے سے زیادہ نواز لیگ کی تعلیمی اصلاحات کا متمنی ہوں۔
کشور گلزار، لیکچرر، اسلام آباد

حالیہ انتخابات نے پاکستان بھر میں ووٹروں کو سوچ بچار کرنے اور سیاسی نظریات کی تصدیق کا موقع فراہم ہے۔
بائیں بازو کے ووٹر اپنے آپ کو الگ تھلگ اور مایوس محسوس کر رہے ہیں۔
مذہب کی آزادی، عورتوں کو اختیارات دینے اور انتہاپسندی کی مذمت مجھے بہت عزیز ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ پیپلزپارٹی وہ واحد جماعت ہے جس کا ان معاملات پر واضح موقف ہے۔
مایوس کن کارکردگی کے باوجود میں پیپلزپارٹی کے نظریاتی موقف کی وجہ سے اس کی حمایت کرتی ہوں۔ کوئی اور جماعت میرے ووٹ کی حقدار نہیں ہے۔
جاو، عمر 24 سال، کراچی
ہم نے جو بےقاعدگیاں دیکھیں وہ چونکا دینے والی تھیں۔ میرے پولنگ سٹیشن کو آٹھ بجے کھلنا تھا لیکن وہ ساڑھے گیارہ بجے کھلا۔ دوسرے پولنگ سٹیشن تین بجے تک نہیں کھلے اور کچھ تو کھلے ہی نہیں۔
پولنگ سٹیشنوں پر کوئی بھی موجود نہیں تھا جو لوگوں کی رہنمائی کر سکتا۔ جب ووٹنگ شروع ہوئی تو قطاریں انتہائی لمبی تھیں۔ بعض لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے 12 گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔
میں تو پھر بھی جیسے تیسے ووٹ دے دیا لیکن بہت سے نہیں دے پائے۔
میری ایک دوست نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ جب اس نے دیکھا کہ بیلٹ بکس نہیں پہنچے تو اس نے اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے بکسوں کی ترسیل خود کروائی۔
بدنظمی اور بدعنوانی کے اور بھی بہت سے واقعات ہوئے جن کی ویڈیو اور تصویریں آن لائن پوسٹ کی گئی ہیں۔
یہ عمران خان کے ووٹ تھے جو ضائع ہوئے۔ صرف یہ بات اچھی تھی کہ لوگ بہت منظم تھے۔ وہ اتنے پرعزم تھے کہ انھوں نے ووٹ ڈالنے کے لیے گھنٹوں انتظار کیا۔
ناصر محمود، لیکچرار ریاضی، بورے والا

میں انتخابات کے نتائج سے بہت مطمئن ہوں۔
سابق حکومت بہت سے معاملات پر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔ توانائی کے بحران نے معیشت کا بیڑا غرق کر دیا۔ میرا خیال ہے کہ ان کے ہارنے کی بڑی وجہ یہی ہے۔
نواز لیگ نے ماضی میں معاشی میدان میں اچھی کارکردگی دکھائی۔ انھوں نے سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا اور صنعتیں لگائیں۔
انھیں سب سے زیادہ تعاون کاروباری طبقے سے ملا، اور یہی وہ لوگ ہیں جو جانتے ہیں کہ معیشت کو کس طرح مستحکم کیا جائے۔ جلد ہی یہ پاکستان کو معاشی ترقی اور سماجی بہتری کی راہ پر گامزن کر دیں گے۔
اس کے علاوہ عمران خان کی تحریکِ انصاف مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آئی ہے۔ وہ مرکزی حکومت پر بہتر کارکردگی کے لیے دباؤ ڈالے گی۔







