زلزلے سے متاثرہ دور افتادہ ماشکیل

منگل کو جنوب مغربی پاکستان میں آنے والے سات اعشاریہ آٹھ شدت کے زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان صوبہ بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں ہوا ہے جو کہ ایرانی سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

تنگ گلیوں، کھجور کے درختوں اور مٹی کے گھروندوں پر مشتمل یہ چھوٹا سا گاؤں جہاں فرنٹیئر کور کے جوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جیسا کہ صوبے کے باقی علاقوں میں صورتحال ہے۔

یہی فرنٹئیر کور کے جوان تھے جنہوں نے زلزلے کے یہ جھٹکے خود بھی برداشت کیے جس نے اس قصبے کے اکثر گھر گرا دیے تھے۔

لیفٹنٹ کرنل محمد عارف جو کہ اس علاقے کے انچارج افسر ہیں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے صدر دفتر کو اپنی آنکھوں کے سامنے گرتے ہوئے دیکھا۔

میرا گھر ایک چھوٹی سی پہاڑی کے اوپر واقع ہے جہاں سے میں نے زلزلے کے جھٹکوں کے نتیجے میں گھروں کو گرتے اور تباہ ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

انہوں نے بتایا کہ ’وہ نظارہ بہت دل دہلا دینے والا تھا جسے میں کبھی بھی بھلا نہیں سکوں گا۔‘

حکام کا اندازہ ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں ماشکیل کے اسی فیصد گھر یا تو مکمل طور یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

فوجی ہیلی کاپٹر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے خیمے پہنچا رہے ہیں مگر ہم نے کئی خاندانوں کو اپنے گھروں کی باقیات پر کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے دیکھا جن کے پاس کوئی سر چھپانے کی جگہ نہیں تھی۔

ماشکیل میں ایک سماجی کارکن لاریف بلوچ نے کہا کہ قصبے کے اکثر گھر رہنے کے قابل نہیں رہے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گھروں کے ڈھانچے تو کھڑے ہیں مگر ان میں دراڑیں آ چکی ہیں۔ ہم نے قصبے میں فوجی ہیلی کاپٹر آتے جاتے دیکھے ہیں مگر اب تک ہمیں اب تک کوئی خیمے، کمبل، دوائیں یا خوراک نہیں ملی‘۔

امدادی کارروائیوں میں علاقے کے دور دراز ہونے کی وجہ سے بہت سی رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں اور سڑک کے زریعے کوئٹہ سے ماشکیل کا راستہ بہت طویل اور خطرناک ہے۔

منگل کے دن کے بعد سے زلزلے کے چھوٹے جھٹکے اب بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

زلزلے سے متاثرہ ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ زلزلے کے بعد سے شدید خوفزدہ ہیں اور انہیں رات کو سونے میں دشواری پیش آتی ہے۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے انہوں نے اپنی استعداد کے مطابق امدادی کارروائیاں کی ہیں۔ ایک فوجی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ آنے والے دنوں میں علاقے کے لوگوں کو ملکی اور غیر ملکی اداروں سے بحالی اور تعمیرِ نو کے عمل میں معاونت اور امداد کی ضرورت ہے۔

علاقے کے لوگوں کے بلوچ اور ایران میں سیستان کے صوبے کے لوگوں سے قریبی تعلقات ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ان سے امدادی کاموں میں مدد مل سکے۔

بہت سے خاندان ایسے ہیں جن کے رشتے دار سرحد کے دونوں اطراف بستے ہیں۔ اس قصبے کی معیشت ایران سے تیل کی سمگلنگ یا پھر کھجوروں کی سالانہ پیداور پر انحصار کرتی ہے۔

زلزلے کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد تھی جس نے اپنے زخمیوں کو سرحد پار ایران میں سیستان صوبے کے شہر زاہدان لیجانے کو ترجیح دی۔

اس صورتحال میں ایرانی حکام نے جلد ہی سرحد پر آمدورفت کے عمومی قوانین میں سہولت دے دی تاکہ امدادی کاموں میں آسانی ہو سکے۔

ماشکیل سے زاہدان تک کا راستہ چند گھنٹوں کا ہے جو کوئٹہ تک جانے کے لیے درکار پندرہ سے اٹھارہ گھنٹوں کے سفر کی نسبت بہت آسان ہے۔

اب تک چند اسلامی رفاحی تنظیموں کو اس علاقے میں پہنچنے کا موقع ملا ہے جن میں سے ایک جماعت الدعوۃ ہے۔ اس تنظیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاکستانی فوج کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور اس کے سربراہ حافظ سعید ہیں جو کالعدم جہادی تنظیم لشکرِ طیبہ کے بانی ہیں۔