زلزلہ:عالمی امدادی اداروں سے مدد کی اپیل

اس زلزلے سے متاثرہ علاقے میں سینکڑوں مکانات بھی منہدم ہوگئے تھے
،تصویر کا کیپشناس زلزلے سے متاثرہ علاقے میں سینکڑوں مکانات بھی منہدم ہوگئے تھے

پاکستان کی فوج نے صوبہ بلوچستان میں زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے عالمی امدادی اداروں سے مدد کی اپیل کی ہے۔

امدادی کارروائیوں میں مصروف نیم فوجی دستوں کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ماشکیل کے علاقے میں زلزلے سے متاثرہ افراد کو خیمے اور طبی امداد تو فراہم کی گئی ہے لیکن فوج کے پاس آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں صرف اپنی طرف سے متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

ماشکیل میں منگل کو آنے والے زلزلے سے اب تک کم از کم 34 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اس زلزلے سے متاثرہ علاقے میں سینکڑوں مکانات بھی منہدم ہوگئے تھے اور متاثرین تین دن سے کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تحصیل ماشکیل کا علاقہ اس زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور بیشتر ہلاکتیں بھی اسی تحصیل میں ہوئی ہیں۔

تحصیل ماشکیل میں زلزلے کے بعد امدادی کام کے انچارج فرنٹیئر کور بلوچستان کے لیفٹینٹ کرنل محمد عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ جب منگل کو زلزلہ آیا تو اس وقت وہ وہاں موجود تھے۔

کرنل عارف نے کہا کہ زلزلے سے ماشکیل کی پوری آبادی ہلی اور پھر مکانات اور ایف سی کا قلعہ زمیں بوس ہوگیا۔

اس سوال پر زلزلے کے بعد ان کا سب سے پہلا ردِ عمل کیا تھا تو انہوں نے بتایا کہ ’میں سب سے پہلے اپنے قلعے کی جانب گیا۔لوگوں کو دیکھا، لوگ باہر تھے۔اس کے بعد بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے میں نے اپنے پاس موجود فرسٹ ایڈ کی طبی امداد کا جائزہ لیا اور اپنے عملے کو الرٹ کیا۔ اس وقت ہمارے پاس جتنی ادویات تھیں وہ اکھٹی کیں، وارڈ کا جائزہ لیا ، بیڈ لگوائےاور میڈیکل ہیلپرز منگوائے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس کے ایک گھنٹے بعد ہمارے پاس گیارہ زخمی افراد آئے جن میں خواتین اور بچے شامل تھے مگر بدقسمتی سے ہم انہیں بچا نہیں سکے کیونکہ اس وقت ہمارے پاس اتنی سہولیات میسر نہیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مرنے والے افراد کے سروں پر شدید چوٹیں آئی تھیں کیونکہ یہ لوگ سوئے ہوئے تھے اور ان کے اوپر عمارتیں گر گئیں تھیں۔

کرنل عارف کے مطابق زلزلے کے بعد پہلے دو گھنٹوں میں جو اموات ہوئیں ان میں تین بچے، تین خواتین اور ایک بزرگ شامل تھے اس کے علاوہ ہلاک ہونے والوں میں گیارہ دیگر افراد بھی شامل تھے۔

ونگ کمانڈر نے کہا کہ وہ مرنے والے افراد کی صیحیح تعداد تو نہیں بتا سکتے البتہ ان کے پاس جو اطلاعات اکھٹی ہوئیں اس کے مطابق زلزلے سے31 سے 34 تک کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب یہاں کے مقامی افراد کے گھر اموات ہوتی ہیں یا خاص طور پر کوئی قدرتی آفت آ جائے تو یہاں کی روایت کے مطابق یہ کسی کو کچھ نہیں بتاتے اور اپنے دستور کے مطابق ایک سے دو گھنٹوں کے دوران مرنے والوں کو دفنا دیتے ہیں۔

دوسری جانب ماشکیل میں موجود پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سماجی ورکر ظریف بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کے بعد یہاں تمام مکانات گر گئے اور جو مکانات بچے وہ رہائش کے قابل نہیں رہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماشکیل میں تھوڑی بہت جو امداد بھیجی گئی وہ ان تک نہیں پہنچ پائی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں سٹرک کا بہت مسئلہ ہے اور پانی آنے کی وجہ سے راستہ بند ہو گیا ہے اس لیے ان تک کوئی امداد نہیں پہنچ سکی۔

انہوں نے کہا کہ وہ صدر آصف علی زرداری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یہاں کے متاثر افرین کے لیے امداد کا اعلان کریں۔