
پانچ سالوں میں اے این پی کے تقریباً ایک ہزار کارکن دہشتگردی کی بھینٹ چڑھے
خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اتحاد سے بننے والی حکومت کے پانچ سالوں میں شدت پسندی کے واقعات نمایاں رہے ہیں۔ قدرتی آفات سے بھی حکومت نمرد آزما رہی لیکن عوامی سطح پر حکومت پر بد عنوانی اور نااہلی جیسے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منتخب اسمبلیوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی ہے اور ان دنوں ہر طرف اسی کا چرچا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے آج جمعے کے دن نگراں وزیر اعلیٰ کا اعلان کر کے باقی اسمبلیوں پر سبقت حاصل کر لی ہے۔
عوام کے پاس اب یہ موقع ہے کہ وہ ان پانچ سالوں کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ انھوں نے جن نمائندوں کو منتخب کر کے ایوانوں میں بھیجا تھا ان کی کارکردگی کیا رہی ہے ۔
خیبر پختونخوا حکومت کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان پانچ سالوں میں متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں بعض مقامات پر حکومت نمایاں طور پر عوام کے ساتھ موجود رہی ہے اور ایسے لمحے بھی دیکھنے کو ملے ہیں جہاں منتخب نمائندے عوامی توقعات پر پورا نہیں اترے۔
خیبر پختونخوا میں گزشتہ پانچ سالوں میں شدت پسندی اور دہشت گردی کے واقعات نمایاں رہے ہیں۔ عوامی نینشل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اتحاد سے بننے والی اس حکومت کو قیام کے دن سے ہی مشکلات کا سامنا تھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس جماعت کے رہنماؤں نے شدت پسندی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور ابتدا میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد شدت پسندوں کے خلاف سوات اور دیگر علاقوں میں کارروائیاں شروع کی گئیں۔ ان کارروائیوں میں عوامی نیشنل پارٹی کو جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔
پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق ان پانچ سالوں میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک ہزار تک افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں صوبائی وزیر بشیر احمد بلور ، میاں افتخار حسین کے صاحبزادے سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔
باچا خان ایجوکیش فاؤنڈیشن کے سربراہ اور سیاسی تجزیہ کار پروفیسر خادم حسین کا کہنا ہے کہ اس حکومت کا ایک بڑا کارنامہ یہ رہا ہے کہ ان پانچ سالوں میں شدت پسندی کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے اور شدت پسندوں کو سوات اور دیگر اہم علاقوں سے سرحد کی جانب دھکیلنے میں کامیاب رہی ہے۔

بشیر احمد بلور ایک بم حملے میں ہلاک ہوئے
ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت کے دیگر کارناموں میں یونیورسٹیز کا قیام، مختلف اضلاع کے مابین سڑکوں کی تعمیر، اور اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی سطح پر قانون سازی، کم سے کم سترہ محکموں کے لیے رولز آف بزننس کی تیاریاں اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور ہاؤسنگ سکیمیں شروع کرنا بھی شامل ہے۔
شدت پسندی کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کو قدرتی آفات کا سامنا بھی رہا ہے۔ اس حکومت کے دور میں دو ہزار دس کے دوران شدید بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے جس سے صوبے میں انفراسٹرکچر تباہ ہو کر رہ گیا تھا۔ حکومت نے اپنے طور پر اس سے نمٹنے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن عوامی سطح پر حکومت سے اب بھی شکایتیں موجود ہیں۔
دوسری جانب یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی حکومت عوامی توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔
صوبائی حکومت پر بد عنوانی اور کرپشن کے الزمامات عائد کیے جاتے رہے ہیں اور بعض اوقات تو انسانی حقوق کی تنظیموں نے کرپشن کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔
بے روزگاری کے حوالے سے بھی صوبائی حکومت پر یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ میرٹ پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں بھی ناکام رہی ہے۔
سینیئر صحافی ایم ریاض نے بی بی سی کو بتایا کہ صرف صوبائی حکومت ہی نہیں ان مسائل سے نمٹنے میں وفاقی حکومت بھی ناکام رہی ہے اور حکومتوں کی کاررکردگی سے لوگ خوش نہیں تھے۔
ان پانچ سالوں میں مبصرین کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبے کی سطح پر ووٹ بینک میں کمی واقع ہوئی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلی میں بھی قانون سازی کے حوالے سے بڑے اقدامات نظر نہیں آئے ہیں ۔ بلکہ سٹینڈنگ کمیٹیز برائے نام ہی رہی ہیں۔
آخری دنوں میں تو منٹوں میں متعدد بل منظور کرائے گئے ہیں جن پر نہ تو بحث کی جا سکی ہے اور نہ ہی ان میں کسی بہتری کے لیے کسی رکن نے کوئی تجویز دی ہے۔






























