
سردار حسین بابک کے مطابق ایک سکول کو تباہ کرنے میں بہت کم وقت لگتا ہے لیکن اس کی دوبارہ تعمیر کے لیے بہت وقت اور وسائل درکار ہوتے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں پچھلے چھ سال کے دوران 1300 سے زائد سرکاری سکولوں کو دھماکا خیز مواد سے تباہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ان میں سے آٹھ سو کے قریب تعلیمی ادارے خیبر پختونخوا جبکہ پانچ سو فاٹا میں نشانہ بنائے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب ان حملوں کا دائرہ صوبائی دارالحکومت پشاور تک بھی پھیل چکا ہے جہاں کچھ عرصے میں پچاس کے قریب سرکاری سکول تباہ کیے جا چکے ہیں۔
صوبائی حکومت کی جانب سے ان سکولوں پر ہونے والے حملوں کو روکنے کےلیے کوئی مؤثر حکمت عملی اور ان کو دوبارہ بحال کرنے کا کوئی منصوبہ بظاہر نہیں نظر آتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں میں تباہ ہونے والے سکولوں کے طلباوطالبات کو عارضی سکولوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق عارضی سکولوں کو گاؤں کے مسجدوں یا حجروں میں قائم کیے گئے ہیں جہاں بچے سخت مشکل حالات میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
محکمۂ تعلیم کے اہلکار بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جو سکول ایک مرتبہ نشانہ بنتا ہے وہاں پھر تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ سکولوں کی تعمیر نو کا عمل تیز کیا جا رہا ہے۔
"یہاں پر ایک ذہن ہے جوانتہا پسندی، بنیاد پرستی اور مذہبی جنونیت کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور اس صوبے میں تعلیم اور شعور کے خلاف ہیں اور وہ ہمارے بچوں اور بچیوں سے کتاب اور قلم چھیننا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ عیاں ہیں۔اس میں کسی شاہد کی ضرورت نہیں ہے۔"
سردار حسین بابک، وزیرِ تعلیم خیبر پختون خوا
خیبر پختون خوا کے صوبائی وزیرِ تعلیم سردار حسین بابک نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں کہ حکومت سکولوں پر حملے روکنے میں ناکام ہو گئی ہے البتہ ’سکیورٹی کے جو حالات ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں۔ ہمارے جوان اور سکیورٹی اہلکار شہید ہو رہے ہیں۔ ہم نے قربانیاں دیں ہیں اور اس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔‘
سکولوں کو سکیورٹی مہیا کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں صوبائی وزیرِ تعلیم نے کہا کہ ’یہاں پر ہر طرف زندگی کو خطرہ ہے۔ ہم نے سکیورٹی فورسز کو اور اپنے عملے میں شامل چوکیداروں کواور کمیونٹی کو متحرک کیا ہے تاکہ دہشت گردوں کا مقابلہ ہو سکے۔‘
سکولوں پر حملوں کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً شدت پسند تنظمیں قبول کرتی رہی ہیں۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ وہ ان سکولوں کو اس لیے نشانہ بناتے ہیں کیونکہ ان کے بقول یہ تعلیمی ادارے مغربی تعلیم کو فروغ دے رہے ہیں جو اسلام کے خلاف ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں سکولوں پر حملے کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ وہ تعلیم کے خلاف نہیں بلکہ وہ دو قسم کے سکولوں کو نشانہ بناتے ہیں ایک وہ جو لارڈ میکالے کے بنائے ہوئے نظام تعلیم کے تحت چلتے ہیں اور دوسرے وہ جو سکیورٹی فورسز کے اہلکار مورچے کے طور پر طالبان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب ان کی پالیسی میں تبدیلی اگئی ہے اب ایک ضرورت کے تحت سکولوں کو تباہ نہیں کیے جاتے ہیں۔البتہ ان سکولوں پر حملے کیے جارہے ہیں جن سکولوں کی تعلیم نصب غیر شرعی ہے۔

طالبان کے ترجمان کے مطابق وہ لارڈ میکالے کے بنائے گئے اور سکیورٹی فورسز کے مورچے کے طور پر استعمال ہونے والے سکولوں پر حملہ کرتے ہیں
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جہاں طالبان کا مکمل قبضہ ہے ان علاقوں میں طالبان نے متبادل کے طور پر ایک درجن سے زیادہ سکول قائم کیے ہیں۔جس کی نگرانی طالبان خود ہی کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان سکولوں میں اسلامی نظام تعلیم اور جدید دور کے مطابق سائنسی تعلیم دی جارہی ہے۔اہلکار کے مطابق جہاں بھی طالبان کی اکثریت بڑھے گی وہاں وہ مذید سکول قائم کرتے جائے گے۔
سکولوں پر حملے کرنے والوں کے بارے میں خیبر پختون خوا کے صوبائی وزیر تعلیم سردار حسین بابک نے کہا کہ’یہاں پر ایک ذہن ہے جوانتہا پسندی، بنیاد پرستی اور مذہبی جنونیت کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور اس صوبے میں تعلیم اور شعور کے خلاف ہیں اور وہ ہمارے بچوں اور بچیوں سے کتاب اور قلم چیننا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ عیاں ہیں۔اس میں کسی شاہد کی ضرورت نہیں۔‘
سردار حسین بابک نے تباہ شدہ سکولوں کی تعمیر نو کا کام سست روی کا شکار ہونے کے سوال پر کہا کہ ’ دیکھیں ایک سکول کو تباہ کرنے میں بہت کم وقت لگتا ہے لیکن اس کی دوبارہ تعمیر کے لیے بہت وقت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔ اس لیے تعمیر نو پر وقت لگ رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ تباہ شدہ سکولوں کے طلبا و طلبات کو دوسرے سکولوں میں منتقل کیا جاتا ہے اور پھر شام کی شفٹ میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ ان کا تعلیمی سلسلہ متاثر نہ ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دو تین کمروں پر مشتمل کسی سکول پر حملہ محض ایک عمارت پر حملہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک نسل کو تاریکی میں دھکیلنے کے مترادف ہوتا ہے۔اگر تعلیمی اداروں کو تباہ کئے جانے کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو یہ امکان بھی موجود ہے کہ کل یہ معمار خود شدت پسندی کے راہ پر چل پڑے۔































