
پاکستان کی موجودہ قومی اسمبلی سولہ مارچ کو تحلیل ہو جائے گی
پاکستان کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے نگراں وزیراعظم کے لیے حکومت کی جانب سے تین نام تجویز کر دیے ہیں۔
وزیر اعظم پرویز اشرف نے قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے رہنما چوہدری نثار علی خان کو خط میں لکھا کہ ’میں اپنے اتحادیوں اور اپنی جماعت کے اندر صلاح و مشورے کے بعد نگراں وزیر اعظم کے لیے تین نام تجویز کرتا ہوں۔یہ تینوں حضرات ایماندار اور با صلاحیت ہیں۔‘
چوہدری نثار علی خان کے نام خط میں وزیراعظم پرویز اشرف کی طرف سے نگراں وزیراعظم کے عہدے کے لیے تجویز کردہ ناموں میں عبدالحفیظ شیخ، ڈاکٹر عشرت حسین اور جسٹس(ر) میر ہزار کھوسو کے نام شامل ہیں۔
وزیراعظم نے حزبِ اختلاف کے رہنما کو لکھا کہ ’ہم حکومت اور حزبِ اختلاف کی طرف سے تجویز کردہ ناموں پر دونوں کے لیے موزوں وقت پر بات چیت کر سکتے ہیں تاکہ آئین کے مطابق نگراں وزیراعظم کے عہدے کے لیے مناسب امیدوار پر اتفاقِ رائے ہو سکے۔‘
راجہ پرویز اشرف نے نگراں وزیراعظم کی نامزدگی کے مسئلے کو جلد حل کر کے عام انتخابات کرانے کے لیے چوہدری نثار سے جلدی جواب کی درخواست کی ہے۔
اس سے پہلے قائدِ حزبِ اختلاف چودھری نثار نے وزیراعظم کو خط لکھ کر اپوزیشن کی جانب سے اس عہدے کے لیے جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد، جسٹس (ر) شاکر اللہ جان اور سندھ کے بزرگ سیاستدان رسول بخش پلیجو کے نام تجویز کیے تھے۔
دو ماہرینِ معاشیات اور ایک سابق جج
سابق سینیٹر عبدالحفیظ شیخ موجودہ حکومت اور اس سے قبل جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور میں ملک کے وزیر خزانہ رہ چکے ہیں جبکہ ڈاکٹر عشرت حسین ممتاز ماہرِ معاشیات اور سٹیٹ بینک کے سابق گورنر ہیں۔وزیراعظم کے تجویز کردہ تیسرے شخص میر ہزار کھوسو ماضی میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔
حکومت کے تجویز کردہ افراد میں سے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور ڈاکٹر عشرت حسین کا تعلق سندھ سے ہے جبکہ میر ہزار کھوسو بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں۔
سابق سینیٹر عبدالحفیظ شیخ موجودہ حکومت اور اس سے قبل جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں ملک کے وزیر خزانہ رہ چکے ہیں جبکہ ڈاکٹر عشرت حسین ممتاز ماہرِ معاشیات اور سٹیٹ بینک کے سابق گورنر ہیں۔
وزیراعظم کے تجویز کردہ تیسرے شخص میر ہزار کھوسو ماضی میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔
اپوزیشن کی جانب سے تاحال حکومت کے تجویز کردہ ناموں پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم ماضی قریب میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کہہ چکے ہیں کہ اگر حکومت نے نگراں وزیر اعظم کے لیے ان کے تجویز کردہ ناموں سے بہتر نام دیا تو ان کی جماعت اسے قبول کرے گی۔
انہوں نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اچھی شہرت اور ساکھ رکھنے والا شخص ہی پاکستان کا نگراں وزیراعظم بنے۔
پاکستان کی موجودہ قومی اسمبلی سولہ مارچ کو تحلیل ہو جائے گی اور آئینِ پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی کی تحلیل کے تین روز کے اندر وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف میں عبوری وزیر اعظم کے نام پر اتفاق ہونا ضروری ہے۔
آئین کی شق 224۔اے کے مطابق اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر دونوں جانب سے دو دو نام آٹھ ارکان قومی اسمبلی یا سینیٹ (یا دونوں) پر مشتمل ایک ایسی کمیٹی کو بھیجے جائیں گے جس میں حکومت اور حزب مخالف کے نمائندوں کی تعداد برابر ہوگی۔
اگر یہ کمیٹی بھی کسی ایک نام پر متفق نہیں ہوتی تو یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سپرد کر دیا جائے گا جو متفقہ طور پر یا اکثریتِ رائے سے نگراں وزیراعظم کا فیصلہ کرے گا۔






























