
وزیر اعظم نے قائد حزب اختلاف سے عبوری وزیر اعظم کے لیے ان کو منظور نام مانگے ہیں
پاکستان کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے قائد حزبِ اختلاف چوہدری نثارسے کہا ہے کہ وہ قومی اسمبلی کی تحلیل سے قبل نگران وزیراعظم کے لیے اپوزیشن کی جانب سے نام تجویز کر دیں۔
انہوں نے یہ بات چوہدری نثار کو بھیجےگئے ایک خط میں کہی ہے۔
پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے خط میں کہا ہے کہ اگر چوہدری نثار کی جماعت (مسلم لیگ نواز) نگران وزیراعظم کے لیے انہیں منظور شخصیات کے ناموں کی فہرست اسمبلی کی تحلیل سے پہلے نہیں دیتی تو پھر انہیں آئین کے تحت اس سلسلے میں کارروائی کرنی ہوگی۔
وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے لکھا ہے کہ ’یہ بہت ضروری ہے کہ ہم آئین کے مطابق یہ سلسلہ شروع کریں اور عبوری وزیر اعظم کی تقرری کے لیے کسی ایسے نام پر متفق ہوں جو قومی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرا سکے۔‘
وزیراعظم کے مطابق ’پاکستانی عوام کو ہم سے یہ توقع ہے کہ ہم کسی مناسب شخص کا انتخاب کریں گے۔‘
چوہدری نثار علی خان کو لکھے گئے اس خط میں وزیر اعظم نے آئین کی شق 224۔اے کا حوالہ بھی دیا ہے۔
اس شِق کے تحت ’اگر قومی اسمبلی کی تحلیل کے تین روز کے اندر وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف میں عبوری وزیر اعظم کے نام پر اتفاق نہیں ہوتا تو پھر دونوں کی طرف سے دو دو نام ایک کمیٹی کو بھیجے جائیں گے۔ یہ کمیٹی آٹھ ارکان قومی اسمبلی یا سینیٹ (یا دونوں) پر مشتمل ہوگی اور ان میں حکومت اور حزب مخالف کے نمائندوں کی تعداد برابر ہوگی اور اس کمیٹی کے ارکان کو وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف نامزد کریں گے۔‘






























