
عبوری حکومت پر اتفاق رائے کے لیے مذاکرات کی جلدی نہیں
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ حکومت کو نگران حکومت پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے حزبِ اختلاف سے مذاکرات کی جلدی نہیں ہے۔
بی بی سی اردو سے ایک خصوصی انٹرویو میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات نے کہا کہ نگران حکومت پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے حکمران جماعت کو زیادہ وقت درکار نہیں ہوگا۔
نگران حکومت کے سلسلے میں حزبِ اختلاف سے مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت فروری کے اوائل میں یہ مرحلہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شیڈول کے مطابق تو عام انتحابات مئی دو ہزار تیرہ میں ہونے چاہیئیں لیکن تکنیکی امکان کی بنیاد پر اسمبلیاں کبھی بھی ٹوٹ سکتی ہیں تاہم انھیں ایسے حالات نظر نہیں آ رہے۔
اگلے عام انتحابات کے لیے پیپلزپارٹی کے اتحادیوں سے متعلق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ ان کی جماعت پنجاب میں مسلم لیگ ق کے ساتھ انتحابات میں اترے گی جبکہ ایم کیو ایم کے ساتھ بھی اتحاد برقرار رہے گا۔
تاہم انہوں نے کہا ’تمام اتحادیوں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ ہو جانا ضروری نہیں ہے‘۔
اصغر خان کیس کے بارے میں سوال پر قمر زمان کائرہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جنرل (ر) اسلم بیگ اور لیفٹیننٹ جنرل(ر) اسد درانی کے خلاف کارروائی ضرور کی جائے گی تاہم یہ کارروائی کب ہو گی، اس بارے میں انھوں نے کچھ نہیں بتایا۔
اس سوال پر کہ آئی جے آئی کی تشکیل میں تو پیپلزپارٹی کے موجودہ اتحادی بھی شامل تھے، ان کا کہنا تھا کہ تمام ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہو گی۔
قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے دورِ حکومت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کو عوامی حمایت دلائی۔
انہوں نے کہا حکومت نے فوج کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف کارروائی کی اور طالبان کو بہت حد تک ایک خاص علاقے تک محدود کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
پاکستان کی سپریم کورٹ کے ان ریماکس پر جن میں کہا گیا کہ بلوچستان حکومت نے اپنی آئینی حیثیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے وفاقی وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہکسی بھی حکومت کی حیثیت کا فیصلہ اسمبلیوں میں عوامی رائے پر ہوتا ہے عدالتوں کی رائے پر نہیں ہوتا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’سیاسی حکومت کے مستقبل کا فیصلہ کرنا، سیاسی عمل کا فیصلہ کرنا عدالت کا نہیں اسمبلی اور پارلیمان کا حق ہے۔ اس کے لیے کوئی اور فورم نہیں ہے۔‘






























