’حکومت نے بہتر شخص کا نام دیا تو قبول کریں گے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 5 مارچ 2013 ,‭ 11:49 GMT 16:49 PST

چاہتے ہیں کہ اچھی شہرت اور ساکھ رکھنے والا شخص ہی پاکستان کا نگران وزیراعظم بنے: نواز شریف

پاکستان میں حزب مخالف کی بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے نگران وزیر اعظم کے لیے ان کے تجویز کردہ ناموں سے بہتر نام دیا تو ان کی جماعت اس نام کو قبول کرے گی۔

انہوں نے یہ بات منگل کو لاہور میں بلوچستان سے پیپلز پارٹی کے سابق رہنما لشکر ریئسانی کی مسلم لیگ نون میں شمولیت کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

نواز شریف نے کہا کہ حکومت اور حزب مخالف نے نگران وزیر اعظم کے لیے دو، دو نام دینے ہیں اور مسلم لیگ نون نے نگران وزیراعظم کے لیے اپنے دو ناموں پر کئی سیاسی جماعتوں سے مشاورت مکمل کر لی ہے۔

مسلم لیگ نون کے سربراہ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف چودھری نثار علی خان نے ان سیاسی جماعتوں سے بھی نگران وزیراعظم کے ناموں پر مشاورت کی ہے جو اسمبلی میں موجود نہیں ہیں۔

نواز شریف نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے نگران وزیر اعظم کے لیے ان سے بہتر نام پیش کیے اور وہ ان ناموں کو قبول کر لیں گے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ اچھی شہرت اور ساکھ رکھنے والا شخص ہی پاکستان کا نگران وزیراعظم بنے۔

دوسری جانب مسلم لیگ نون کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف چودھری نثار علی خان نے بتایا کہ نگران وزیراعظم کے لیے جو دو نام تجویز کیے گئے ہیں ان سے ایک نام پر معاملہ اٹکا ہوا ہے ۔

قائد حزب مخالف کے مطابق نگران وزیر اعظم کے لیے جس نام پر مسئلہ آرہا ہے اس پر مشاورت کی جارہی ہے اور جیسے ہی یہ معاملہ طے ہوگیا تو وزیراعظم کو دونوں نام بھجوا دیے جائیں گے۔

چودھری نثار علی خان نے یہ بھی اعلان کیا کہ سندھ میں نگران حکومت کے لیے بھی ان کی جماعت نام پیش کرے گی۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے گزشتہ ماہ قائد حزب مخالف چودھری نثار علی خان کو خط لکھا تھا جس میں انہیں نگران وزیر اعظم کے لیے دو نام بھجوانے کے لیے کہا گیا تھا۔

اس سے پہلے سابق وزیراعلیْ بلوچستان اسلم رئیسانی کے بھائی لشکر رئیسانی نے بائیس رکنی وفد کے ہمراہ مسلم لیگ نون میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔

اس موقع پر ایک سوال پر لشکر رئیسانی نے بتایا کہ ابھی ان کے بھائی اسلم رئیسانی نے مسلم لیگ نون میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

لشکر رئیسانی پیپلز پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر اور سینیٹ کے رکن تھے اور انہوں نے دو ہزار بارہ میں اختلافات کی بناء پر پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>