نگران وزیراعظم،’اپوزیشن تین ناموں پر متفق‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 مارچ 2013 ,‭ 14:04 GMT 19:04 PST

پیپلز پارٹی سندھ اور بلوچستان میں الیکشن چرانے کی کوشش کر رہی ہے: چودھری نثار

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ملک کے نگران وزیراعظم کے لیے اپوزیشن میں تین ناموں پر اتفاقِ رائے ہوگیا ہے۔

بدھ کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں جن تین ناموں پر متفق ہوئی ہیں ان میں جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد، جسٹس(ر) شاکر اللہ جان اور بزرگ سیاستدان رسول بخش پلیجو شامل ہیں۔

چودھری نثار نے کہا کہ وہ اس حوالے سے جمعرات کو وزیراعظم کو خط تحریر کریں گے۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے گزشتہ ماہ قائد حزب مخالف چودھری نثار علی خان کو خط لکھا تھا جس میں انہیں نگران وزیر اعظم کے لیے دو نام بھجوانے کے لیے کہا گیا تھا۔

چوہدری نثار کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئینی و قانونی طور پر قائدِ حزبِ اختلاف نگران وزیراعظم کے ناموں کے بارے میں کسی سے مشاورت کا پابند نہیں لیکن ان کی جماعت نے پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ان جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جو ایوان میں موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم پر حزبِ اختلاف کی جماعتوں سے مشاورت پر چار ماہ سے ہوم ورک جاری تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’ہم نے دانستہ کوشش کی پنجاب سے کوئی نام نہ ہو تاکہ ہم پر کوئی انگلی نہ اٹھائے کہ ہم نے اپنے صوبے سے تجویز دی۔‘

خیال رہے کہ مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر حکومت نے نگران وزیر اعظم کے لیے ان کے تجویز کردہ ناموں سے بہتر نام دیا تو ان کی جماعت اسے قبول کرے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اچھی شہرت اور ساکھ رکھنے والا شخص ہی پاکستان کا نگران وزیراعظم بنے۔

قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سندھ اور بلوچستان میں الیکشن چرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سندھ میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنے اتحادیوں کو حکومتی بینچوں سے اٹھا کر اپوزیشن نشستوں پر بٹھا دیا اور ان کا اپوزیشن لیڈر بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کا فیصلہ ہے کہ اگر وسیع تر مشاورت اور اتفاق رائے سے سندھ اور بلوچستان میں نگران حکومتیں قائم نہ ہوئیں تو پھر پنجاب اسمبلی کے برخاست ہونے کا فیصلہ (ن) لیگ دیگر اپوزیشن جماعتوں سے مل کر کرے گی اور یہ ضروری نہیں کہ یہ اسی دن ہو جب باقی اسمبلیاں برخاست ہو رہی ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>