
خیبر پختونخواہ میں رواں سال کے پہلے ڈیڑھ ماہ میں دہشت گردی کے پچاس سے زیادہ واقعات پیش آ چکے ہیں
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک مسجد کے اندر دھماکے سے چار افراد ہلاک اور بیس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکا اس وقت ہوا جب ظہر کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔
یہ دھماکا اندرون شہر خواتین کی خریدای کے اہم مرکز مینا بازار میں واقع ایک جامع مسجد کے اندر ہوا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ریموٹ کنٹرول دھماکا خیز مواد مسجد کی محراب میں اس مقام پر رکھا گیا تھا جہاں امام مسجد کھڑے ہوتے ہیں۔
سپرنٹنڈنٹ پولیس عمران شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکا خیز مواد مہراب میں دیوار کے اندر جگہ بنا کر اس میں چھپایا گیا تھا۔
دھماکے کے وقت مسجد میں 30 سے 35 افراد موجود تھے۔ دھماکے سے مسجد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ اس دھماکے کے لیے تین سے چار کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے سیل کر دیا گیا ہے۔
ہلاک اور زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچایا گیا ہے جن میں سے دس زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
مینا بازار پشاور کے مرکز میں گھنٹہ گھر سے ایک سو قدم دور دائیں ہاتھ پر محلہ باقر شاہ میں واقع ہے۔
یہ بازار ایک تنگ گلی پر مشتمل ہے جس میں چھوٹی چھوٹی دکانیں ہیں جس میں زیادہ تر منیاری، کپڑے، برتن اور روز مرہ استعمال کے اشیاء کی دکانیں ہیں۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں رواں سال کے پہلے ڈیڑھ ماہ میں دہشت گردی کے 50 سے زیادہ واقعات پیش آ چکے ہیں جس میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔






























