عیسائی آبادی پر حملہ: مقدمہ درج، دو درجن گرفتار

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 مارچ 2013 ,‭ 21:23 GMT 02:23 PST

جمعے کی رات کو ایک عیسائی لڑکے ساون مسیح کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا

لاہور میں پولیس نے ایک عیسائی شخص پر توہینِ رسالت کے الزام کے بعد مشتعل افراد کی طرف سے جوزف کالونی میں گھروں کو شدید نقصان پہنچانے کے واقعے کا مقدمہ درج کردیا ہے اورگرفتاریاں شروع کردیں ہیں۔

ہمارے نمائندے کے مطابق اس واقعہ کا مقدمہ بادامی باغ کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کر دیا گیا ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ انسدادی دہشت گردی کی دفعہ سات سمیت دوسرے فوج داری دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

ہمارے نمائندے کے مطابق اتوار کی صبح متاثرہ لوگ جوزف کالونی کو لوٹ رہے ہیں اور اداسی کا سماں ہے۔

علاقے میں پولیس کی باری نفری تعینات ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ حکومت کی طرف سے لگائے گئے کیمپ میں بہت کم لوگ قیام پذیر ہیں جس میں چند خواتین اور مرد شامل ہیں۔زیادہ تر لوگ اپنے عزیز و اقارب کے ہاں ٹہرے ہیں۔

واضح رہے کہ لاہور میں ایک عیسائی شخص کے خلاف توہینِ رسالت کے الزام کے بعد مشتعل افراد نے سنیچر کی صبح جوزف کالونی پر دھاوا بول کر مکانات اور دکانوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

مقامی پولیس کے مطابق اس واقع کے سلسلے میں دو درجن سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ وہ گرفتاریاں ان کے پاس موجود ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر کر رہی ہیں۔

گرفتاریاں

News image

مقامی پولیس کے مطابق اس واقع کے سلسلے میں دو درجن سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں

ہمارے نمائندے عبادالحق کے مطابق لاہور کے بادامی باغ کے انڈسٹریل ایریا کے قریب واقع جوزف کالونی میں سنیچر کی صبح مشتعل افراد نے حملہ کر کے پونے دو سو کے قریب مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچایا تھا اور دو گرجا گھروں کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا تھا۔

واقعے کے بعد پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کو ایک کیمپ میں رکھا جائے گا جہاں ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا جائے گا۔

قومی ہم آہنگی کے متعلق وزیر اعظم کے مشیر پال بھٹی نے کہا تھا کہ یہ واقعہ حکومت پنجاب کی مکمل ناکامی ہے اور یہ کہ انہوں نے اس واقعے سے پہلے ہی پنجاب کے آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری کو اپنے خدشات سے آگاہ کردیا تھا۔

ہمارے نمائندے نے وقوعے کی جگہ سے بتایا تھا کہ جوزف کالونی میں زبردست تباہی مچی تھی۔ اس علاقے میں چھوٹے چھوٹے گھر تھے جن میں زیادہ تر خاکروب مقیم تھے۔ ان کے گھروں میں بری طرح توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی تھی اورگھر کے سامان کو توڑنے پھوڑنے کے بعد گھروں کو آگ لگا دی گئی تھی۔

اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی تھی۔ علاقے کی عیسائی آبادی جمعے کے روز ہی گھروں کو تالہ لگا کر علاقہ چھوڑ کر چلی گئی تھی۔

قومی ہم آہنگی کے متعلق وزیر اعظم کے مشیر پال بھٹی نے کہا تھا کہ یہ واقعہ حکومت پنجاب کی مکمل ناکامی ہے

یاد رہے کہ جمعے کی رات کو ایک عیسائی لڑکے ساون مسیح کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ لاہور کے بادامی باغ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ پرچہ شاہد عمران کی مدعیت میں 295 سی کے تحت درج کیا گیا تھا۔

تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ حجام شاہد عمران نے بتایا تھا کہ ساون مسیح نامی لڑکا توہین رسالت کا مرتکب ہوا۔ پولیس نے بتایا تھا کہ ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

باغ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او حافظ عبدالماجد نے بتایا تھا کہ ساون مسیح کی عمر تقریباً 25 سال ہے۔ وہ اپنے مکان کے باہر بلیئرڈ ٹیبل رکھ کر کاروبار کیا کرتا تھا۔

پولیس کے مطابق ساون مسیح کے مکان کے سامنے ہی شاہد عمران کا کھوکھا ہے جہاں وہ حجامت بناتا ہے۔

باغ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او حافظ عبدالماجد نے بتایا تھا’پہلے تو ہم مذہبی جماعتوں کو بھی ساتھ لے آئے کہ جو آپ کہتے ہیں ہم پرچہ بناتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’20 تاریخ کو لوہا مارکیٹ میں انتخابات ہیں اور دونوں طرف کے امیدوار کھڑے ہو رہے ہیں۔ اس لیے بھی یہ معاملہ سیاسی بن گیا ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>