
جمعے کی رات کو ایک عیسائی لڑکے ساون مسیح کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا
لاہور میں پولیس نے ایک عیسائی شخص پر توہینِ رسالت کے الزام کے بعد مشتعل افراد کی طرف سے جوزف کالونی میں گھروں کو شدید نقصان پہنچانے کے واقعے کا مقدمہ درج کردیا ہے اورگرفتاریاں شروع کردیں ہیں۔
ہمارے نمائندے کے مطابق اس واقعہ کا مقدمہ بادامی باغ کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کر دیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ انسدادی دہشت گردی کی دفعہ سات سمیت دوسرے فوج داری دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ہمارے نمائندے کے مطابق اتوار کی صبح متاثرہ لوگ جوزف کالونی کو لوٹ رہے ہیں اور اداسی کا سماں ہے۔
علاقے میں پولیس کی باری نفری تعینات ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ حکومت کی طرف سے لگائے گئے کیمپ میں بہت کم لوگ قیام پذیر ہیں جس میں چند خواتین اور مرد شامل ہیں۔زیادہ تر لوگ اپنے عزیز و اقارب کے ہاں ٹہرے ہیں۔
واضح رہے کہ لاہور میں ایک عیسائی شخص کے خلاف توہینِ رسالت کے الزام کے بعد مشتعل افراد نے سنیچر کی صبح جوزف کالونی پر دھاوا بول کر مکانات اور دکانوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
مقامی پولیس کے مطابق اس واقع کے سلسلے میں دو درجن سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ وہ گرفتاریاں ان کے پاس موجود ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر کر رہی ہیں۔
گرفتاریاں

مقامی پولیس کے مطابق اس واقع کے سلسلے میں دو درجن سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں
ہمارے نمائندے عبادالحق کے مطابق لاہور کے بادامی باغ کے انڈسٹریل ایریا کے قریب واقع جوزف کالونی میں سنیچر کی صبح مشتعل افراد نے حملہ کر کے پونے دو سو کے قریب مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچایا تھا اور دو گرجا گھروں کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا تھا۔
واقعے کے بعد پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کو ایک کیمپ میں رکھا جائے گا جہاں ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا جائے گا۔
قومی ہم آہنگی کے متعلق وزیر اعظم کے مشیر پال بھٹی نے کہا تھا کہ یہ واقعہ حکومت پنجاب کی مکمل ناکامی ہے اور یہ کہ انہوں نے اس واقعے سے پہلے ہی پنجاب کے آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری کو اپنے خدشات سے آگاہ کردیا تھا۔
ہمارے نمائندے نے وقوعے کی جگہ سے بتایا تھا کہ جوزف کالونی میں زبردست تباہی مچی تھی۔ اس علاقے میں چھوٹے چھوٹے گھر تھے جن میں زیادہ تر خاکروب مقیم تھے۔ ان کے گھروں میں بری طرح توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی تھی اورگھر کے سامان کو توڑنے پھوڑنے کے بعد گھروں کو آگ لگا دی گئی تھی۔
اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی تھی۔ علاقے کی عیسائی آبادی جمعے کے روز ہی گھروں کو تالہ لگا کر علاقہ چھوڑ کر چلی گئی تھی۔

قومی ہم آہنگی کے متعلق وزیر اعظم کے مشیر پال بھٹی نے کہا تھا کہ یہ واقعہ حکومت پنجاب کی مکمل ناکامی ہے
یاد رہے کہ جمعے کی رات کو ایک عیسائی لڑکے ساون مسیح کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ لاہور کے بادامی باغ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ پرچہ شاہد عمران کی مدعیت میں 295 سی کے تحت درج کیا گیا تھا۔
تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ حجام شاہد عمران نے بتایا تھا کہ ساون مسیح نامی لڑکا توہین رسالت کا مرتکب ہوا۔ پولیس نے بتایا تھا کہ ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
باغ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او حافظ عبدالماجد نے بتایا تھا کہ ساون مسیح کی عمر تقریباً 25 سال ہے۔ وہ اپنے مکان کے باہر بلیئرڈ ٹیبل رکھ کر کاروبار کیا کرتا تھا۔
پولیس کے مطابق ساون مسیح کے مکان کے سامنے ہی شاہد عمران کا کھوکھا ہے جہاں وہ حجامت بناتا ہے۔
باغ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او حافظ عبدالماجد نے بتایا تھا’پہلے تو ہم مذہبی جماعتوں کو بھی ساتھ لے آئے کہ جو آپ کہتے ہیں ہم پرچہ بناتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’20 تاریخ کو لوہا مارکیٹ میں انتخابات ہیں اور دونوں طرف کے امیدوار کھڑے ہو رہے ہیں۔ اس لیے بھی یہ معاملہ سیاسی بن گیا ہے۔‘






























