
دادو کی اس مسجد میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کا واقعہ پیش آیا تھا
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع دادو کی پولیس نے سیتا ولیج میں ایک شخص کو تشدد کر کے ہلاک کرنے اور اس کی لاش جلانے کے الزام میں گرفتار انیس ملزمان کی شناخت کا دعویٰ کیا ہے۔
دادو کے علاقے سیتا ولیج میں اکیس دسمبر دو ہزار بارہ کو ایک ہجوم نے قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں ایک نوجوان کو تھانے کے لاک اپ میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں وہ نوجوان ہلاک ہو گیا اور پھر بعد میں گاؤں کے چوک پر اس کی لاش کو آگ لگا دی گئی تھی۔
ایس ایس پی دادو عثمان غنی نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ انیس افراد کو واقعے کی موبائل فون کی مدد سے بنائی گئی ویڈیوز سے شناخت کرنے اور دیگر شواہد کی بنا پر باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔
عثمان غنی کے مطابق ان انیس افراد کا چالان چار جنوری کو مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آٹھ سے دس ایسے لوگ ہیں جو اس کارروائی میں ملوث رہے ہیں مگر پولیس انہیں تاحال گرفتار نہیں کر سکی ہے اور ان افراد کو عدالت کے ذریعے انہیں مفرور قرار دلوایا جائے گا۔
ایس ایس پی عثمان غنی کے مطابق مقتول کا خاکہ بنا کر مختلف تھانوں میں بھیجا گیا ہے تاہم ہلاک ہونے والے نوجوان کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔
ادھر اس واقعے کی جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ان میں ایک شخص کو زمین پر بےسدھ پڑا دیکھا جا سکتا ہے جس پر لوگ اینٹیں اور پتھر برسا رہے ہیں جبکہ ساتھ میں سندھی میں یہ آوازیں بھی آرہی ہیں کہ ’مر گیا مرگیا اب اسے شہر کی طرف لے چلو‘۔
ایک اور ویڈیوز میں لوگوں کو اس شخص پر جھاڑیاں رکھتے اور مطمئن نہ ہونے پر آگ لگانے کے لیے بڑی لکڑیاں منگواتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ پولیس نے اس معاملے میں تھانہ سیتا ولیج کے تھانیدار سمیت سات پولیس اہلکاروں کو بھی حراست میں لیا تھا جنہیں بعد میں چھوڑ دیا گیا تھا۔






























