
پولیس نے پیش امام کی مدعیت میں نامعلوم مقتول کے خلاف قرآن کی بےحرمتی جبکہ پولیس نے پانچ سو ملزمان کے خلاف تھانے پر حملے اور قتل کا مقدمے درج کیا ہے
دادو پولیس نے تھانہ سیتا ولیج میں جہاں جعمہ کی صبح ایک شخص کو قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں جلا دیاگیا تھا، مزید کئی افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
دادو پولیس کے سربراہ عثمان صدیقی نے کہا ہے کہ بعض لوگوں سے موبائل فون پر بنی ہوئی ویڈیو برآمد ہوئی ہے، جس کی روشنی میں اصل ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب سیتا روڈ کے علاقے میں مذہبی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس میں پولیس کارروائی کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ اصل ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔
ضلع دادوکے پولیس سربراہ نے کہا ہے کہ تھانہ سیتا ولیج کے تھانیدار سمیت سات پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
دادو پولیس کے سربراہ کے مطابق پولیس کو اس شخص کا نام معلوم نہیں ہے جسے ہجوم پولیس کی حوالات سے پکڑ کر لے گیا اور اسے ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش کو آگ لگا دی۔
ایس ایس پی دادو عثمان غنی کے بقول جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو ساڑھے تین بجے کے قریب لوگوں نے مسجد کے پیش امام کو بتایا کہ ایک شخص نے مبینہ طور پر مسجد میں قرآن کی بے حرمتی کی ہے اور آگ لگائی ہے۔
اس واقعے کے بعد لوگوں نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔
ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ پولیس کے مطابق فجر کے وقت سورج کی روشنی کے ساتھ ہی یہ خبر پورے علاقے میں پھیل گئی اور ایک بڑے ہجوم نے تھانے پر حملہ کردیا اور پولیس سے اسلحہ چھین لیا۔
ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ ملزم کو لاک اپ سے نکال کر اسے پتھر اور اینٹیں مارمار کر ہلاک کر دیا گیا۔
ایس ایس پی کے مطابق ہجوم نے ملزم کی لاش کو ایک کلومیٹر دور ایک چوک تک گھسیٹا جہاں لاش پر پٹرول چھڑک کر اس کو آگ لگا دی گئی۔






























