
شیری رحمان اس وقت امریکہ میں پاکستان کی سفیر ہیں
پاکستان کی سپریم کورٹ نے امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمان کے خلاف مبینہ طور مذہبی معاملے میں توہین آمیز رویہ اختیار کرنے پر کارروائی کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔
یہ درخواست ملتان سے تعلق رکھنے والے تاجر فہیم انورگل نے دائر کی ہے جو دو ہزار گیارہ کے آغاز سے اس معاملے کی پیروی کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس سے قبل ملتان کی سیشن کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ میں بھی یہ درخواست دائر کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔
تاہم جمعرات کو سپریم کورٹ نے ان کی اپیل منظور کرتے ہوئے ملتان کے سٹی پولیس افسر کو قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا ہے۔
فہیم اخترگل نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ تیس نومبر سنہ دو ہزار دس کو پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’دنیا مرے آگے‘میں شیری رحمان نے توہین رسالت کی سزا پر گفتگو کی اور ایسے الفاظ استعمال کیے جو توہین پر مبنی ہیں۔
خیال رہے کہ امریکہ میں بطور سفیر تقرر سے قبل بطور رکنِ قومی اسمبلی شیری رحمان نے ایوان میں نجی کارروائی کے دن ذاتی حیثیت میں ایک ترمیمی بل پیش کیا تھا جس میں ناموسِ رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو رکوانے کے لیے تجاویز پیش کی گئی تھیں۔
بعد میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ اس بل کا پارٹی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کے کہنے پر شیری رحمان بل واپس لینے پر تیار ہوگئی تھیں۔






























