
بلوچستان میں اس وقت متعدد عسکریت پسند گروہ مسلح کاروائیاں کر رہی ہیں
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے ایک مرتبہ پھر مسلح مزاحمت کاروں کے لیے مراعات کے پیشکش کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسلح کاروائیاں ترک کریں۔
یہ بات بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں کہی گئی ہے جو کہ منگل کی شب جاری کیا گیا تھا۔
بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے بعدیہ اپنی نوعیت کا دوسرا اعلامیہ ہے۔
اس اعلامیہ میں ایک مرتبہ پھر پہاڑوں پرجانے اورمزاحمت کرنے والے افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ مزاحمت ترک کردیں۔
مزاحمت ترک کرنے والوں کے لیے دس ہزار روپے وظیفے کا پہلے ہی اعلان کیاجاچکا ہے۔
اعلامیہ میں ایسے تمام لوگوں سے توقع ظاہر کی گئی ہے کہ وہ واپس آ کر حکومت سے تعاون کریں گے اورصوبے کی تعمیروترقی میں اپناکرداراداکریں گے۔
صوبائی سیکر یٹری داخلہ اکبر حسین درانی کا کہنا ہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے مسلح کاروائیاں ترک کرنے والوں کے لیئے 5 کروڑ روپے کا ایک فنڈ قائم کیا گیا ہے۔
اس فنڈ سے مسلح کاروائیاں ترک کرنے والے افراد کے خاندانوں کو ماہانہ دس ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ انہیں ان کی تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے ملازمت بھی دی جائے گی۔
اس مراعات کی منظوری گورنر بلوچستان کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی (Apex Committee )میں دی گئی تھی جس کے اراکین میں اعلیٰ سویلین حکام کے علاوہ پاکستانی فوج کے سدرن کمانڈ کے کمانڈر اور فرنٹیئر کور کے انسپیکٹر جنرل بھی شامل ہیں۔
بلوچستان میں اس وقت متعدد عسکریت پسند گروہ مسلح کاروائیاں کر رہی ہیں۔
ان کاروائیوں کا آغاز سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں ہوا تھا جو کہ ابھی تک جاری ہیں۔
اس سے قبل بھی بلوچستان میں مسلح کاروائیوں میں ملوث گروہوں کو اس طرح کی پیشکش کی جاتی رہی ہے لیکن تاحال مسلح کاروائیاں کرنے والی تنظیموں کی جانب سے ان کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔






























