
ایک طویل بحث کے بعد اسبملی ممبران نے اتفاق رائے سے صوبے میں گورنر راج کے خلاف قرار داد منظور کر لی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گورنر راج کے بعد صوبائی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں گورنر راج کے خلاف متفقہ طور پر قرار داد منظور کی گئی ہے۔
یہ قرار داد بلوچستان اسمبلی کے ارکان میر شاہ نواز مری، عین اللہ شمس اور سید احسان شاہ نے پیش کی تھی۔
اس قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ چودہ جنوری دو ہزار تیرہ کو صدارتی فرمان کے تحت گورنر بلوچستان کی سفارش پر صوبہ بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا ، بلا شبہ یہ اقدام غیر جمہوری اور بلوچستان کے لوگوں کی حق رائے دہی اور بنیادی آئینی حقوق کو پامال کرتے ہوئے شب خون مارنے کے مترادف ہے۔
صوبے میں گورنر راج کے بعد یہ بلوچستان اسمبلی کا پہلا اجلاس تھا جو منگل کی شام کو شروع ہوا۔
قرارد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ گورنر راج کی نوٹیفیکیشن جو پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت جاری کی گئی ہے کو فوری واپس لیا جائے۔
اس قرار داد پر بلوچستان اسمبلی کے اراکین مولانا عبدالواسع، سید احسان شاہ، اصغر رند اور دیگر ارکان اسمبلی نے اظہار خیال کرتے ہوئےکہا کہ یہ اقدام بلوچستان کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔
کوئٹہ میں مقامی صحافی کے مطابق جمیعت علماء اسلام اور بی این پی عوامی نے پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی ہی ہے جس نے تیسری دفعہ بلوچستان کی منتخب حکومت کو ختم کر دیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 میں بلوچستان کے منتخب حکومت کو ختم کر دیا تھا، بعد میں بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں نواب اکبر بگٹی کی جو حکومت بن رہی تھی اس کا راستہ روک کر ایک اقلیتی حکومت قائم کی گئی اور اب آصف علی زرداری نے اس حکومت کو ختم کر دیا۔
ایک طویل بحث کے بعد اسبملی ممبران نے اتفاق رائے سے صوبے میں گورنر راج کے خلاف قرار داد منظور کر لی۔
اس سے قبل جمعرات کو بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے ایک تعزیتی قرارداد میں اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا گیا اوراس کی مذمت کی گئی۔
اس قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کی جائے اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
اسبملی کے اجلاس کی صدارت سپیکر سید متیع اللہ آغا نے کی۔






























