
نواب ذولفقار مگسی کو ایک ایسے صوبے میں چیف ایگزیکٹو تعینات کیا گیا ہے جہاں حکمران اختیارات کی کمی کا رونا روتے آئے ہیں
بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر دینے سے کیا اس صوبے کے دیرینہ تمام محرومیاں ختم ہو جائیں گی اورکیا تشدد کی حالیہ لہر پر قابو پا لیا جائے گا؟
یہ ایسے سوالات ہیں جو اکثر لوگوں کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ مبصرین کہتے ہیں کہ اختیارات کے بغیر نواب ذوالفقار مگسی بھی وہی کردار ادا کریں گے جو نواب اسلم رئیسانی ادا کر رہے تھے۔
بلوچستان میں اس وقت ایک طرف فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں تو دوسری جانب قوم پرستی کی بنیاد پر وارداتوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں اور کبھی کبھار مذہبی شدت پسندی کا واقعہ بھی پیش آتا ہے۔
اس طرح کی تمام کارروائیوں پر قابو پانے کے لیے متعدد بار بڑے فیصلے کیے گئے جیسے کوئٹہ کو فرنٹیئر کور کے حوالے کر دیا گیا ، یا ایف سی کو پولیس کے اختیارات بھی دیے گئے ، کئی مرتبہ جوڈیشل کمیشن قائم کیے گئے جو اپنی رپورٹیں متعلقہ حکام کو پیش کر تے رہے، لیکن بیشتر کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ۔
بلوچستان کے بارے میں ایک رپورٹ میں یہ نکات اٹھائے گئے تھے کہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کوششوں کی ضرورت ہے۔
کوئٹہ میں دو روز پہلے اگرچہ ایک بہتر جمہوری ماحول میں مظاہرین کے مطالبات تسلیم کیے گئے اورگورنر راج نافذ کر کے موجودہ حکمرانوں نے غم سے نڈھال افراد کو دلاسہ دینے کی کوشش کی ہے اور بلوچستان میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا لیکن کیا اس سے بلوچستان کو در پیش تمام مسائل حل ہو جائیں گے؟
فرقہ وارانہ فسادات
بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کا آغاز انیس سو ننانوے میں شروع ہوا اور پھر معمول سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا گیا۔ کوئٹہ میں سن دو ہزار تین میں امام بارگاہ اثنا عشریہ اور پھر مارچ دو ہزار چار میں عاشورہ کے جلوس پر خود کش حملے فرقہ وارانہ تشدد کے بڑے واقعات میں شمار ہوتے ہیں
نواب ذوالفقار مگسی فروری دو ہزار آٹھ سے بلوچستان کے گورنر ہیں جبکہ اپریل دو ہزار آٹھ سے جنوری دو ہزار تیرہ تک نواب اسلم رئیسانی بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہے ۔ اس عرصے کے دوران ان دونوں چیف ایگزیکٹوز نے بارہا اپنے بیانات میں کہا ہے کہ ان کے پاس ایسے اختیارات نہیں ہیں جس سے وہ بلوچستان کو در پیش مسائل حل کر سکیں۔
فرنٹیئر کور کے حوالے سے بھی انھوں نے بارہا کہا تھا کہ ایف سی کو صوبائی حکومت کے تابع کیا جائے اسی طرح نواب ذوالفقار مگسی نے بھی متعدد مقامات پر کہا تھا کہ بلوچستان کو در پیش مسائل حل کرنے میں سکیورٹی ادارے اور حکومت ناکام نظر آتی ہے ۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے بلوچستان میں بد امنی کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے اس حد تک کہا تھا کہ لوگوں کے جبری غائب ہونے میں ایف سی زمہ دار ہے۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے گورنر راج نافذ کرنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ نواب ذوالفقار مگسی ہوں یا نواب اسلم رئیسانی جب تک حکمرانوں کے پاس مسائل کے حل اور بلوچستان میں آباد اقوام کی محرومیوں کو ختم کرنے کے مکمل اختیارات نہیں ہوں گے تب تک بلوچستان میں آگ بھڑکتی رہے گی۔

اپریل دو ہزار آٹھ سے جنوری دو ہزار تیرہ تک نواب اسلم رئیسانی بلوچستان کے وزیر اعلی رہے
ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادی کا مطالبہ تسلیم کرکے حکومت نے ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی ہے جسے وہ سراہتے ہیں لیکن بلوچستان میں دیگر اقوام اور مظلوم طبقے بھی رہتے ہیں، جیسے لاپتہ افراد کے لواحقین ، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے شکار افراد کے ورثا، یہ سب بھی انصاف چاہتے ہیں۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ کے مطابق اب نواب اسلم رئیسانی کی جگہ پر نواب ذولفقار مگسی کو ایک ایسے صوبے میں چیف ایگزیکٹو تعینات کیا گیا ہے جہاں حکمران اختیارات کی کمی کا رونا روتے آئے ہیں۔
بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کا آغاز انیس سو ننانوے میں شروع ہوا اور پھر معمول سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا گیا۔ کوئٹہ میں سن دو ہزار تین میں امام بارگاہ اور پھر مارچ دو ہزار چار میں عاشورہ کے جلوس پر خود کش حملے فرقہ وارانہ تشدد کے بڑے واقعات ہیں۔
فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات جاری تھے کہ اس دوران بلوچ قوم پرستی کی لہر نے سر اٹھایا تو حکام کے مطابق اسے کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا تھا۔ مارچ دو ہزار پانچ میں ڈیرہ بگٹی میں بگٹی قبیلے کے مسلح افراد اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے مابین شدید جھڑپ میں پچاسی افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع تھی۔
اسی طرح دسمبر دو ہزار پانچ میں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں باقاعدہ فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا تھا لیکن اس کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ تیس سے چالیس فراری کیمپ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے علاقوں میں ہیں جن کے خلاف یہ فوجی کارروائی شروع کی گئی ہے۔
لگ بھگ سات سال گزر جانے کے باوجود حکام یہ نہیں بتا سکے کہ وہ تیس سے چالیس فراری کیمپ ختم کیے گئے یا نہیں کیونکہ صوبے میں بدامنی میں تو کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کے علاوہ سرکاری اہلکاروں اور صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملے ہو رہے ہیں، جبکہ لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا جار ہا ہے۔
مبصرین کہتے ہیں، ’دیکھنا یہ ہے کہ نواب ذوالفقار مگسی کے پاس کونسی جادو کی چھڑی ہے جس سے وہ ان تمام مسائل پر قابو پالیں گے‘۔






























